پالتو کتے کو لفٹ سے نکالنے کی درخواست پر خاتون نے بچے کو ہی لفٹ سے باہر نکال دیا
بھارتی شہر گریٹر نوائیڈا کے گور سٹی اپارٹمنٹ کمپلیکس میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں ایک خاتون کو ایک آٹھ سالہ بچے کو زدوکوب کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچہ ٹیوشن سے واپس آ رہا تھا اور اپارٹمنٹ کی لفٹ میں اکیلا موجود تھا۔ لفٹ کا دروازہ کھلا تو باہر کھڑی خاتون بغیر پٹے کے پالتو کتے کے ساتھ لفٹ کے اندر داخل ہوگئیں۔ بچہ گھبرا گیا اور مؤدبانہ انداز میں گزارش کی کہ کتے کو پٹہ ڈال کر لایا جائے، مگر اس معمولی درخواست پر خاتون شدید غصے میں آگئیں۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے طیش میں آ کر بچے کو زبردستی لفٹ سے کھینچ کر باہر نکالا، اور لفٹ کا دروازہ بند کردیا۔ اطلاعات کے مطابق خاتون نے بچے کو تھپڑ مارے اور اسے شدید ہراساں بھی کیا۔ چند لمحوں بعد دروازہ دوبارہ کھلا، اور بچہ روتا ہوا لفٹ میں واپس آیا، جب کہ خاتون اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔
بھارت میں خاتون نرس کے ساتھ انسانیت سوز واقعہ
یہ واقعہ منظرِ عام پر آتے ہی علاقے کے سیکڑوں رہائشی سراپا احتجاج ہوئے۔ لوگوں نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور دعویٰ کیا کہ مذکورہ خاتون کا رویہ پہلے بھی کئی بار متنازعہ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کتوں کی وجہ سے اکثر دیگر رہائشیوں سے جھگڑا کرتی رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے خاتون کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ متاثرہ بچے اور اس کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت خواتین پر تشدد کو دہشت گردی قرار دینے کے لیے کوشاں
یہ واقعہ اس بڑھتی ہوئی سماجی بے حسی کی ایک اور مثال ہے، جہاں لوگ دوسروں کے جذبات اور تحفظ کو پسِ پشت ڈال کر محض اپنی انا کی تسکین کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ بچوں کی معمولی سی درخواست پر بھی شدید ردعمل دینا ضروری سمجھتے ہیں۔