چین کا مصنوعی سورج 10 کروڑ ڈگری درجہ حرارت تک پہنچ گیا
چین نے توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش میں ایک بڑی پیش رفت کی ہے۔ اس کی ”مصنوعی سورج“ مشین، جسے EAST کہا جاتا ہے، جوہری فیوژن کے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے 1,000 سیکنڈ تک پلازما کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے 2023 میں قائم اس کے 403 سیکنڈز کے پرانے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق توانائی کی ضروریات کے لیے جوہری فیوژن تیار کرنا سائنسدانوں کا طویل عرصے سے ایک ہدف رہا ہے لیکن درجہ حرارت کو 100 ملین ڈگری سیلسیس (دس کروڑ) سے زیادہ تک پہنچانا اور اس کے طویل مدتی آپریشن کو برقرار رکھنا ہمیشہ ایک چیلنج ثابت ہوا ہے۔ تاہم، 1,000 سیکنڈ تک سسٹم کو مستحکم کرنے سے، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی کوشش میں ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔
چین کے ایک اعلیٰ سائنس دان سونگ یونٹاؤ نے وضاحت کی کہ فیوژن کے کام کرنے کے لیے، ڈیوائس کا لمبے عرصے اور آسانی سے اور مؤثر طریقے سے چلنا ضروری ہے۔ ہزاروں سیکنڈ۔ مستقبل کے فیوژن پاور پلانٹس میں توانائی کا مسلسل بہاؤ پیدا کرنے کے لیے اہم ہے۔
چینی سائنسدان چھوٹے آلو کاشت کرنے لگے، کس تباہی کی تیاری ہے؟
سونگ یونٹاؤ نے مزید کہا کہ ہم EAST کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو وسعت دینے اور فیوژن توانائی کو انسانیت کے لیے عملی استعمال میں لانے کی امید ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جوہری ری ایکٹر ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جہاں وہ نیوکلیئر فیوژن کے ذریعے اپنی توانائی پیدا کر سکے۔ لیکن نیا ریکارڈ توانائی کا ایک مستحکم، دیرپا بہاؤ بنانے کی جانب ایک امید افزا قدم ہے جو مستقبل کے ری ایکٹروں کو طاقت فرہم کرسکتا ہے۔
دو جنگِ عظیم اور دو نیکلئیر حملوں کے باوجود کامیابی سے چل رہی 1400 سال پرانی کمپنی
چینی سائنسدان 2006 سے ایسٹ ری ایکٹر کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس حوالے سے لاکھوں ٹیسٹ کر چکے ہیں۔ EAST کی کامیابی سے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، چین اب صوبہ Anhui میں ایک نئی، جدید فیوژن ریسرچ کی سہولت تعمیر کر رہا ہے۔ اس سے فیوژن توانائی کی ترقی کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔