امریکا نے غیر قانونی قیام کرنے والے بھارتی باشندوں کو نکال دیا
امریکا نے بھارت کے متعدد باشندوں کو غیر قانونی طور پر قیام کرنے کی پاداش میں نکال دیا ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحت کیے جانے والے ان اقدامات کے نتیجے میں متعدد ممالک کے باشندوں کو نکالا گیا ہے۔
اس کارروائی کا بنیادی مقصد صدارتی انتخاب کے موقع پر سبوتاژ کی سرگرمیوں کی روک تھام ہے۔ امریکی حکومت غیر قانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے غیر لچک دار رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
وینیزوئیلا، پورٹو ریکو، پناما اور وسطِ امریکا کے دیگر ممالک سے ہوتے ہوئے میکسیکو میں گھس کر امریکا تک پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کے باعث امریکا کے سرحدی محافظوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
امریکی سرزمین پر ویزا کی میعاد ختم ہونے پر بھی رہنے والے بھارتی باشندوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے امریکی حکام نے چارٹرڈ فلائٹ کا اہتمام کیا۔
امریکا کے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں اسے بھارتی حکومت کا تعاون حاصل رہا ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ یہ چارٹرڈ فلائٹ 22 اکتوبر کو بھارت بھیجی گئی۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ڈپٹی سیکریٹری کی حیثیت سے کام کرنے والی کرسٹی اے کینیگالو کا کہنا ہے کہ جو بھارتی باشندے کسی قانونی بنیاد کے بغیر امریکا میں مقیم ہیں انہیں فوری طور پر نکالنے کا امریکا کے متعلقہ اداروں کو حق حاصل ہے۔
واضح رہے کہ جون 2024 کے بعد سے اب تک امریکا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی تعداد میں 55 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر اور موجودہ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے غیر لچک دار پالیسی اپنائیں گے۔
مالی سال 2024 کے دوران ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے 145 ممالک کے لیے 495 پروازوں کا اہتمام کرکے ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کو امریکا سے نکالا ہے یا اُن کے ملک واپس بھیجا ہے۔
ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی دنیا بھر کی حکومتوں سے رابطے میں رہتا ہے تاکہ جب ان کے باشندوں کو واپس بھیجا جائے تو قبول کیا جائے۔