پاکستانی فارما انڈسٹری کو تعاون اور استحکام کی ضرورت ہے، ڈاکٹر محمود خان
ریاض میں واقع ایک غیر منافع بخش تنظیم ہیوولوشن فاؤنڈیشن کے سی ای او ڈاکٹر محمود خان نے بدھ کو ساتویں پاکستان فارما سمٹ اور ”پی ای ایس اے ایوارڈز 2024“ میں پاکستان کی دوا سازی کی صنعت میں تعاون اور اختراع کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ڈاکٹر محمود خان کا کہنا ہے کہ ’دواسازی کی صنعت صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس انڈسٹری کی مقامی کمپنیوں نے مارکیٹ کا 70 فیصد حصہ بن کر اچھی پیشرفت دکھائی ہے‘۔
تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی اختراع کے لیے ایجاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر محمود خان نے پاکستان کی 250 فارما کمپنیوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں استحکام کی ضرورت ہے۔ دو کمپنیاں برطانیہ پر غلبہ رکھتی ہیں، چار امریکہ میں اور اتنی ہی زیادہ یورپ میں غلبہ رکھتی ہیں۔ دنیا بھر میں اس کا ادراک ہو چکا ہے۔ تعاون کے بغیر حکومت اور انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ صنعت بغیر کسی پیمانے کے چیلنجز کا سامنا کرتی رہے گی۔
پاکستان فارما سمٹ 2024: فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ترقی کیلئے ماہرین کا اجتماع
ڈاکٹر محمود خان نے مزید کہا کہ پاکستان محدود پیمانے کی وجہ سے قیمت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’قیمت پر مقابلہ کرنے سے منافع کم ہوتا ہے۔ تمام عام مینوفیکچررز یورپ میں غائب ہو چکے ہیں‘۔
انہوں نے پاکستان کی باصلاحیت افرادی قوت کی تعریف کی لیکن انہیں برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر محمود خان نے زور دے کر کہا، ’پبلک سیکٹر کو نجی شعبے کو سہولت فراہم کر کے شہریوں کی خدمت کرنی چاہیے‘۔
ساتویں پاکستان فارما سمٹ، جدت اور تعاون بنیادی مقاصد
مثال کے طور پر، انہوں نے یو ایس انوویشن ایکو سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروان چڑھتا ہے کیونکہ اس کا پبلک سیکٹر پرائیویٹ سیکٹر کو سپورٹ کرنے کو ترجیح دیتا ہے، تحقیق اور ترقی کے لیے خاطر خواہ فنڈ فراہم کرتا ہے۔
کووید وبا نے دنیا بھر میں تبدیلی کو تیز کیا ہے، اور ڈاکٹر محمود خان کا خیال ہے کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری ایک اہم موڑ پر ہے۔
بڑھتے ہوئے کسٹمر بیس کے ساتھ، خاص طور پر بزرگوں میں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے باعث پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے دوا سازی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، ماہرین
ان کے ریمارکس سمٹ میں جمع ہوئے صنعت کے رہنماؤں اور ماہرین کے خطابات میں بھی سنائی دئے، جن میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مستقبل پر بات چیت ہوئی۔