شائع 11 ستمبر 2024 10:08pm

’ویگن ایکٹیوسٹ‘ کا غیراخلاقی حالت میں انوکھا احتجاج

آسٹریلیا میں ”ویگن ایکٹیوسٹ“ تاش پیٹرسن نے نیم برہنہ حالت میں انوکھا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

آسٹریلیا کے شہرپرتھ میں ایک سڑک پر ”ڈیوڈ جونز“ نامی ایک ڈیپارٹمنٹ اسٹور کے باہر اشتعال انگیز احتجاج کرکے ملک میں ایک تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

سانپ کی کھال سے مشابہہ پرنٹ والی ’بکنی‘ میں ملبوس اور جعلی خون سے لتھڑی پیٹرسن نے جانوروں کے تحفظ کی تنظیم ”پیٹا“ (PETA) کے تعاون سے جانوروں کی جلد سے بنی مصنوعات کی فروخت کے خلاف مظاہرہ کیا۔

پیٹرسن ڈرامائی انداز میں خون کے دھبوں والے بلاک پر لیٹ گئیں جس پر لکھا تھا، ”ڈیوڈ جونز: جنگلی جانوروں کی کھالیں چھوڑ دیں۔“

بھارت: پرنسپل نے ’نان ویج‘ کھانا لانے پر مسلمان طالبعلم کو اسکول سے نکال دیا

ایک انسٹاگرام ویڈیو میں، پیٹرسن نے کہا، ’جانور جیکٹس، بیگ اور بیلٹ نہیں ہیں، یہ وہ مخلوق ہیں جو درد محسوس کرتے ہیں۔‘

انہوں نے فیشن انڈسٹری پر جانوروں کو ان کی کھال سے لباس اور لوازمات تیار کرنے کیلئے ”تشدد اور قتل“ کرنے کا الزام لگایا۔

اس دوران راہگیر حیران و پریشان نظر آئے، کچھ نے اس منظر کو نظر انداز کیا جبکہ دوسروں نے اپنے روزمرہ معمولات کو جاری رکھا۔

پیٹرسن کی سانپ کی کھال کے پرنٹ والی اس بکنی کا مقصد ”زیادتی کے شکار رینگنے والے جانوروں“ کی نمائندگی کرنا اور جانوروں پر ہونے والے ظلم کو اجاگر کرنا تھا۔

یہ احتجاج پیٹرسن کے متنازع مظاہروں کے ایک سلسلے کی پیروی ہے، جس میں دسمبر کے اسٹنٹ کے دوران بے ترتیب رویے اور مجرمانہ نقصان کیلئے گرفتاری اور عدالت میں جرم کا اعتراف بھی شامل ہے۔

قانونی اثرات اور مغربی آسٹریلیا چھوڑنے پر پابندی کے باوجود، انہوں نے جانوروں کے حقوق کی وکالت جاری رکھنے کا عزم کیا اور پولیس کو مبینہ طور پر اپنے ایکٹوسٹ گروپ میں گھسنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ویجیٹیرین  غذاؤں سے جڑی  5 افواہیں

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تاش پیٹرسن نے اس قسم کا غیر اخلاقی احتجاج کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ مکمل برہنہ حالت میں احتجاج کر چکی ہیں۔

Read Comments