سرحد پار بھی یہی ڈراما، سرکاری ٹیچر 8 سال سے غائب مگر تنخواہ جاری
ہمارے ہاں آئے دن ایسے کیس سامنے آتے ہیں کہ کوئی سرکاری ملازم ملک میں ہے ہی نہیں اور نہ صرف یہ کہ اس کی ملازمت برقرار ہے بلکہ تنخواہ بھی باقاعدگی سے ریلیز کی جارہی ہے۔ ہم اس معاملے میں انوکھے نہیں۔ پڑوس میں بھی ایسا ہی چل رہا ہے۔
بھارت کی مغربی ریاست گجرات کی سرکاری اسکول ٹیچر بھاونا بین پٹیل آٹھ سال سے امریکا میں سکومت پذیر ہے۔ اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ اُس کا نام اسکول کے روسٹر پر موجود ہے بلکہ محکمہ تعلیم کی طرف سے تنخواہ بھی جاری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکول کی انتظامیہ اور اسٹاف کے ارکان کے علاوہ طلبا و طالبات کے والدین نے بھی بھاونا پٹیل کے والدین نے بھی کئی بار اس حوالے سے محکمہ تعلیم سے رابطہ کیا اور شکایت درج کرائی مگر پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور بھاونا پٹیل کا نام اب تک روسٹر پر موجود ہے اور تنخواہ بھی جاری ہے۔
بھاونا پٹیل گجرات کے ضلع بناس کانٹھا کے علاقے امباجی کے پانچا پرائمری اسکول کی ہیڈ مسٹریس تھی۔ 2013 سے وہ امریکا مقیم ہے اور گرین کارڈ ہولڈر بھی ہے۔ وہ بھارت آتی رہی ہے مگر کبھی اسکول نہیں گئی اور طلبا و طالبات سے نہیں ملی۔
اسکول کی انچارج ٹیچر پارُل بین نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا جاچکا ہے مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اُن کا کہنا ہے کہ باونا پٹیل کو اسکول میں پورے دو سال سے نہیں دیکھا گیا۔
پرائمری اسکول ایجوکیشن آفیسر کا کہنا ہے کہ بھاونا پٹیل آخری بار جنوری 2023 میں اسکول آئی تھی اور تب سے اب تک غیر ادا شدہ چھٹی پر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب بھاونا پٹیل کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے اور محکمہ جاتی کارروائی کی جارہی ہے۔