حکومت نے بجلی کی خریداری کے موجودہ معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صارفین کو ہونے والے نقصانات سے بچانے کے لیے موجودہ پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کا جائزہ لینے کے لیے وزیر بجلی سردار اویس لغاری کی سربراہی میں ایک بین وزارتی کمیٹی (آئی ایم سی) تشکیل دے دی ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ 969 میگاواٹ کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا جو کہ ڈیزائن کی سنگین خرابیوں کے باعث طویل عرصے سے غیر فعال ہے جس سے قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
کمیٹی میں وزیر پاور (کنوینر)، وزیر آبی وسائل (ممبر)، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن (ممبر)، سیکریٹری پاور ڈویژن (ممبر)، چیئرمین نیپرا (ممبر)، سیکریٹری آبی وسائل (ممبر) اور چیئرمین واپڈا (ممبر) شامل ہیں جس کا مقصد نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پرواجیکٹ کی سرنگ کے گرنے کے نیتجے صارفین کے ٹیرف کے مسائل پر ایک رپورٹ مرتب کرنا ہے۔
واضح رہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن کی سنگین خرابیوں پر دو رکنی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کردی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف جنہوں نے جون کے پہلے ہفتے میں چین کا اہم دورہ کیا، نے پرواجیکٹ کا معاملہ چینی کمپنیوں چائنا انرجی/چائنا گیزوبا گروپ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھایا جس نے یہ منصوبہ بنایا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ”وزیراعظم نے نیلم جہلم پراجیکٹ میں ڈیزائن کی سنگین خامیوں کا معاملہ اٹھایا اور ان سے کہا کہ وہ اس خامی کو دور کریں تاکہ اس منصوبے کو جلد از جلد آپریشنل کیا جا سکے۔“ ذرائع نے مزید کہا کہ چیئرمین گیزوبہ گروپ کمیٹی معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔