نیوزی لینڈ کے سمندر میں عالمی اوسط سے 300 فیصد زائد حدت، ماحول کے لیے خطرہ بڑھ گیا
نیوزی لینڈ میں سمندری حدت عالمی اوسط سے تین گنا ہوگئی ہے۔ ماہرین نے نیوزی لینڈ کے پانیوں میں پیدا ہونے والی غیر معمولی ہیٹ ویو کو عالمی سطح پر دور رس اثرات کی حامل قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے کئی خطے بُری طرح متاثر ہوسکتے ہیں، بارشوں کا پیٹرن بھی متاثر ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں بعض ممالک موسلا دھار بارشوں کے باعث سیلاب سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
ماحول سے متعلق امور کے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اب یہ تصور یا تاثر بھی دم توڑ رہا ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا دنیا بھر کے ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات سے بہت حد تک محفوظ ہیں۔
نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان واقع سمندر میں غیر معمولی حدت سے دونوں ممالک شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سمندری حیات کے لیے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
برطانوی اخبار گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے سمندر میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ کسی ایک خطے میں رونما ہونے والی سمندری حدت کی یہ تبدیلی انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے نیوزی لینڈ کا قدرتی ماحول بُری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے 1982 سے اب تک کے ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ نیوزی لینڈ کی حکومت کے لیے بھی یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔ سمندری حیات کو بچانے اور ماحول کے لیے پیدا ہونے والے مجموعی خطرات سے نپٹنے کے لیے وسیع البنیاد اقدامات کرنا ہوں گے۔