یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے خلاف احتجاج کی نئی لہر
یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے خلاف احتجاج زور پکڑتا جارہا ہے۔ فرانس، جرمنی اور اسپین میں اس حوالے سے غیر معمولی تحرک دکھائی دے رہا ہے۔ یورپی یونین کے بہت سے ممالک میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز بھی رائے بدل رہے ہیں۔
مصبرین کا کہنا ہے کہ فرانس، اسپین، جرمنی اور چند دوسرے اہم یورپی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کمزور پڑ رہی ہے۔
دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی نے یورپ میں بہت سوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ یہ انتہا پسندی اگر ان کے معاشروں میں بھی تیزی سے پنپ گئی تو کیا ہوگا۔
جرمنی میں لبرل اور اعتدال پسند سوچ کے حامل افراد انتہائی دائیں بازوں کی سیاست کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ گزشتہ دنوں جرمنی میں ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں کم و بیش ڈیڑھ لاکھ افراد نے شریک ہوکر انتہائی دائیں بازو کی سیاست کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس سوچ کی راہ روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔
یوکرین پر روس کی لشکر کشی کے بعد سے یورپ بھر میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو مسلسل تنقید کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔
روس کی آرتھوڈوکس قیادت کی ہٹھ دھرمی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مغربی یورپ کے بیشتر ممالک میں عوام نے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ دائیں بازو کے قدرے اعتدال پسند عناصر کے سوا سب کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔
اس رجحان کے نتیجے میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا ووٹ بینک بھی کمزور ہوا ہے۔ مقامی سطح پر بھی ان جماعتوں کی کارکردگی خراب رہی ہے۔