ایران مذاکرات چاہتا ہے، مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے: صدر ٹرمپ

امریکا طویل جنگ میں بڑے پیمانے پر فتح حاصل کر سکتا ہے، امریکی صدر
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 11:03pm

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتیں، فضائیہ، نیوی اور فوجی قیادت ختم ہو چکی ہیں اور مذاکرات کے لیے اب بہت دیر ہو گئی ہے۔ انہوں نے امریکا کے اسٹاک شدہ ہتھیاروں کی بھرپور تیاری کا بھی اعلان کیا اور جنگ کے لمبے عرصے تک جاری رہنے کے امکانات ظاہر کیے۔

ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے لیے مذاکرات کا وقت اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

منگل کو ایران سے خلیج کے دیگر علاقوں میں ڈرون اور میزائل حملوں نے تیل کی تنصیبات اور امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا، جب کہ امریکی حلیف اسرائیل نے ایران پر بمباری کی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی پیش قدمی تیز کی۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنی سوشل میڈیا پوسٹ ٹروتھ سوشل میں لکھا کہ ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، نیوی اور قیادت ختم ہو چکی ہے۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

یہ اعلان اس کے دو دن بعد آیا جب انہوں نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی اور چار دن بعد امریکی و اسرائیلی حملوں نے ایران کی سینئر قیادت کو شدید نقصان پہنچایا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے لیے کچھ لوگوں کے نام دماغ میں تھے، لیکن جن کے نام تھے وہ لوگ حملوں میں مارے گئے، ایران نے ان شہروں پرحملہ کیا جن کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ سے بھی خوش نہیں ہوں، ایران کے خلاف نئے حملوں کی لہر آنے والی ہے، تیل کی قیمتیں کچھ وقت کے لیے بڑھیں گی، ہمارے پاس ہتھیاروں کو بڑا ذخیرہ موجود ہے، ایران کے ہوتے ہوئے مشرق وسطی میں امن مکمن نہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرحملہ نہ کرتے تو ایک ماہ میں ایران نیوکلیئر پاور بن جاتا، اگر ایران نیوکلیئر ہتھیار بنا لیتا تو اسرائیل پر حملہ کر دیتا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ میں نے 8 جنگیں ختم کروائیں، پاکستان اور بھارت جنگ جیسی بڑی جنگ رکوائی۔

انھوں نے وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ایک رائے نامے کے ردعمل میں کہا کہ یہ رپورٹ غلط اور بدنام کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے اپنے ہتھیاروں کی تیاری اور صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا، جس میں کہا کہ امریکا طویل عرصے تک کارروائی کرنے کے قابل ہے اور بڑے پیمانے پر فتح حاصل کر سکتا ہے۔

ٹرمپ، جنہوں نے گزشتہ سال اپنی دوسری مدت کا آغاز کیا، پہلے بھی عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت پر تنقید کر چکے ہیں اور نئے جنگوں سے گریز کی پالیسی کے حامی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے رپورٹرز نے تہران کے وسطی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں ریکارڈ کیں، جب کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے قائم کمیٹی کی عمارت بھی نشانہ بنی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق تہران میں نویں مرحلے کے حملے کیے گئے ہیں، اسی دوران ریاض میں امریکی سفارت خانے نے مشرقی سعودی شہر دھاران میں فوری حملے کی وارننگ دی، جو سعودی عرب کے تیل اور گیس کے اہم علاقے ہیں۔

اس دوران اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدن سار نے عالمی دارالحکومتوں پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر دیے جائیں۔ تاہم چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اس پر زور دیا کہ طاقت کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے، بل کہ یہ مزید مشکلات اور شدید اثرات پیدا کرتی ہے۔

امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل، امریکی سفارت خانوں اور خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے تیل و گیس تنصیبات، پورٹس، ہوائی اڈے اور ہوٹلز متاثر ہوئے۔ قطر نے اپنی ایل این جی صنعت بند کر دی اور آبنائے ہرمز میں شپنگ تقریباً رک گئی۔

علاقائی اثرات کے پیش نظر عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتیں بلند اور حصص کی قیمتیں گر گئی ہیں۔ بھارت نے بھی اپنے 10 لاکھ شہریوں کی حفاظت کے لیے تشویش کا اظہار کیا۔

عمان اور متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں سے پورٹس اور تیل کے ذخائر متاثر ہوئے، جب کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کی چھت اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نینی نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل پر دوزخ کے دروازے مسلسل کھلتے رہیں گے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ والکر ترک نے شہریوں پر حملوں کے اثرات پر گہری تشویش ظاہر کی، جب کہ جوہری نگرانی ادارے نے ایران کے نطنز افزودگی پلانٹ میں حالیہ نقصان کی سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر تصدیق کی۔

اے ایف پی کے مطابق اب تک چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ ایران میں سیکڑوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔