’ایسا کچھ نہیں دیکھا جس نے مجھے شک میں ڈالا‘: بل کلنٹن کا ایپسٹین کیس میں بیان
سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے جمعے کو ایوان نمائندگان کی اوور سائیٹ کمیٹی کو بند کمرے میں بیان دیا کہ جب وہ ایپسٹین کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو انہیں اس کے جرائم کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور انہوں نے کچھ بھی مشکوک نہیں دیکھا جس پر شک کیا جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بل کلنٹن نے بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین کیس میں ایوان نمائندگان کی اوور سائیٹ کمیٹی کو بیان میں کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ایپسٹین کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے، تو وہ اس کے طیارے پر سفر نہ کرتے اور اسے رپورٹ کر دیتے۔
رائٹرز کے مطابق سابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ہم یہاں صرف اس لیے ہیں کہ اس نے سب سے یہ راز اتنی مہارت سے چھپایا۔ میں نے کچھ نہیں دیکھا اور کچھ غلط نہیں کیا۔
بل کلنٹن نے اپنے صدارت کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایپ اسٹین کے طیارے پر کئی بار سفر کیا۔ یہ سفر اس سے پہلے کے ہیں جب ایپسٹین 2008 میں نابالغ لڑکی سے بدکاری کے الزام میں سزا ہوئی۔ اس کا الزام اسی برس ثابت ہوا اورعدالت نے فیصلہ سنایا۔
عدالت کی جانب سے جاری لاکھوں دستاویزات میں کلنٹن کی خواتین کے ساتھ تصاویر بھی شامل ہیں، جن کے چہرے چھپائے گئے ہیں تاکہ شناخت محفوظ رہے۔
یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب ہلیری کلنٹن نے جمعرات کو کمیٹی کے سامنے بتایا کہ انہیں ایپسٹین سے ملنے کی یاد نہیں اور ان کے پاس اس کے جنسی جرائم کے بارے میں کچھ شیئر کرنے کو نہیں ہے۔
کمیٹی کے رکن ریپبلکن جیمز کومر نے کہا کہ وہ سابق صدر سے عدالتی دستاویزات میں شامل تصاویر کے بارے میں سوال کریں گے اور ایپسٹین کے ساتھ کلنٹن فاؤنڈیشن کے تعلقات پر بھی پوچھ گچھ متوقع ہے۔
کلنٹن نے ریپبلکنز پر الزام لگایا کہ یہ تفتیش جذباتی اور سیاسی ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جانچ کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی جائے۔
یاد رہے کہ ایپ اسٹین 2019 میں وفاقی جنسی ٹریفکنگ کے الزامات کے دوران جیل میں مردہ پایا گیا اور اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔















