دفتری ملازمین میں وٹامن ڈی کی کمی کیوں ہوتی ہے؟ 5 ضروری ٹیسٹ

ماہرین صحت دفتری ملازمین کو وٹامن ڈی کی کمی کے حوالے سے خاص طور پر محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
شائع 27 فروری 2026 09:13am

جدید دور کی تیز رفتار اور مصروف طرز زندگی نے انسان کو قدرتی ماحول اور سورج کی روشنی سے دور کردیا ہے، جس کے نتیجے میں وٹامن ڈی کی کمی ایک خاموش مگر سنگین صحت کے مسئلے کے طور پر سامنے آرہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کمی کا شکار ہیں، خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اور شہری علاقوں میں اس کی شرح زیادہ ہے۔

وٹامن ڈی کو ”سن شائن وٹامن“ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر سورج کی روشنی سے جسم میں بنتا ہے، لیکن موجودہ طرزِ زندگی میں سورج کی روشنی میں وقت گزارنے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔

اہم دفاتر میں طویل اوقات تک کام کرنا، ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں رہنا اور زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارنا اس کی بڑی وجوہات بن چکے ہیں۔

بچے بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں، کیونکہ وہ دن بھر اسکول میں رہنے کے بعد گھر آکر بھی باہر کھیلنے کے بجائے گھروں تک محدود ہوجاتے ہیں، جس سے ان کے اندر بھی وٹامن ڈی کی کمی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کے جذب، ہڈیوں کی مضبوطی، پٹھوں کی کارکردگی اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس کی کمی کی صورت میں نہ صرف ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں بلکہ مسلسل تھکن، پٹھوں میں درد، کمزوری، بار بار بیماری، موڈ میں تبدیلی اور ڈپریشن جیسی علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اگر یہ کمی طویل عرصے تک برقرار رہے تو آسٹیوپوروسس، دل کی بیماریوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی بڑی وجوہات میں سورج کی روشنی میں کمی، سن اسکرین کا زیادہ استعمال، فضائی آلودگی، غیر متوازن غذا، جنک فوڈ کا استعمال، موٹاپا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق دفتری ملازمین کو وٹامن ڈی کی کمی کے حوالے سے خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزرتا ہے، جس سے ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

مسلسل ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں کام کرنا اور سورج کی روشنی سے دور رہنا جسم میں وٹامن ڈی کی پیداوار کو کم کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیاں آہستہ آہستہ کمزور اور کھوکھلی ہوسکتی ہیں۔ اسی لیے ملازمت پیشہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت پر خصوصی توجہ دیں اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ کرواتے رہیں تاکہ کسی بھی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔

وٹامن ڈی کی کمی جانچنے کے لیے اہم بلڈ ٹیسٹ

25-Hydroxy Vitamin D

ڈاکٹروں کے مطابق 25-Hydroxy Vitamin D خون کا سب سے اہم اور مستند ٹیسٹ ہے، جس کے ذریعے جسم میں وٹامن ڈی کی درست سطح معلوم کی جاتی ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق علاج اور سپلیمنٹ تجویز کرسکتے ہیں۔

کیلشیم ٹیسٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کیلشیم کے جذب میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے کیلشیم ٹیسٹ بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ وٹامن ڈی کی کمی کیلشیم کی سطح کو متاثر کرسکتی ہے۔

بون منرل ڈینسٹی ٹیسٹ

منرل ڈینسٹی ٹیسٹ کے ذریعے ہڈیوں کی مضبوطی کا جائزہ لیا جاتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو طویل عرصے سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوں، کیونکہ اس سے ہڈیوں کے کمزور ہونے اور ٹوٹنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

تھائرائیڈ فنکشن ٹیسٹ

ماہرین کے مطابق بعض اوقات مسلسل تھکن اور کمزوری کی وجہ صرف وٹامن ڈی کی کمی نہیں بلکہ تھائرائیڈ کا عدم توازن بھی ہوسکتا ہے، اسی لیے تھائرائیڈ فنکشن ٹیسٹ کروانا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

میگنیشیم ٹیسٹ

میگنیشیم لیول ٹیسٹ بھی اہم ہے کیونکہ میگنیشیم وٹامن ڈی کو فعال شکل میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی مناسب مقدار کے بغیر وٹامن ڈی جسم میں مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو وٹامن ڈی کی کمی مستقبل میں ایک بڑے صحت کے بحران کی صورت اختیار کرسکتی ہے

دفتری ملازمین اور کارپوریٹ شعبے سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی مصروف زندگی کے باوجود باقاعدگی سے صحت کا معائنہ کروائیں، متوازن غذا استعمال کریں اور ممکنہ حد تک سورج کی روشنی میں وقت گزاریں اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ بھی کرواتے رہیں، تاکہ وٹامن ڈی کی کمی اور اس سے جڑے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔