کون سے پیشے ملازمین کو خودکشی پر مجبور کردیتے ہیں؟ ہارورڈ ماہرِ نفسیات کا انکشاف
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ پیشے ایسے ہیں جہاں کام کرنے والے افراد میں خودکشی کے خیالات اور واقعات کی شرح نسبتاً زیادہ دیکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان شعبوں سے وابستہ افراد کو مسلسل ذہنی دباؤ، جذباتی بوجھ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا سامنا رہتا ہے، جسے برداشت کرنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا اور یہی دباؤ بعض اوقات خطرناک نتائج کا سبب بن جاتا ہے۔
روزانہ بڑی تعداد میں لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی زندگی ختم کرنے جیسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں، جن میں ذہنی دباؤ ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔
خودکشی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انسان شدید ذہنی دباؤ اور جذباتی کمزوری کا شکار ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق کئی افراد اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران مسلسل ذہنی دباؤ برداشت کرتے ہیں اور یہی دباو وقت کے ساتھ ساتھ خطرناک حد تک بڑھ کر خود کشی پراکساتا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ معروف ماہرِ نفسیات اور پروفیسر میتھیو نوک نے اپنی تحقیق میں ایسے اہم حقائق بیان کیے ہیں جنہوں نے ذہنی صحت کے ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرنفسیات نے خاص طور پر چند ایسے پیشوں کی نشاندہی بھی کی ہے جہاں کام کرنے والے افراد ذہنی دباؤ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق تقریباً 15 فیصد افراد زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر خودکشی کے بارے میں سوچتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک بڑی تعداد اسے کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ جو لوگ بچ جاتے ہیں، ان میں اکثر پچھتاوا پایا جاتا ہے، لیکن کچھ افراد دوبارہ بھی ایسی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکشی صرف ایک نفسیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی اور پیشہ ورانہ دباؤ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ہر شعبے میں کام اور ذمہ داریوں کا کسی نہ کسی حد تک دباو ہوتا ہے، لیکن چند پیشے ایسے ہیں جہاں ذہنی دباؤ، ذمہ داری اور خطرات زیادہ ہونے کی وجہ سے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں پولیس اہلکار، ایمرجنسی سروسز کے کارکن جیسے فائر فائٹرز اور میڈیکل ایمرجنسی اسٹاف، ڈاکٹرز، ہیلتھ کیئر ورکرز اور دفاعی شعبے سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
ان پیشوں میں کام کرنے والے افراد کو کام کے سخت اوقات کار کی پابندی اور آرام کے مواقع کم ملنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسے افراد کو عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان پر ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے اور بعض لوگ اس مسلسل دباؤ کو برداشت نہیں کر پاتے۔

رپورٹس کے مطابق خواتین ڈاکٹرز، نرسز، پولیس اور دیگر اہم شعبوں میں کام کرتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ گھریلو اور سماجی دباؤ بھی برداشت کرتی ہیں، جو ذہنی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے پیشوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات، کونسلنگ اور سپورٹ سسٹم فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لینا اور خاص طور پر دباؤ والے پیشوں میں کام کرنے والوں کو مناسب مدد فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
















