ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کو آئین سے متصادم قرار دے دیا
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’قرارداد منظور کرکے آئین کو چیلنج کیا گیا، کیا کوئی صوبہ آئین کے خلاف قرارداد منظور کر سکتا ہے؟‘
کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی گئی اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صوبہ خود کو پاکستان کے آئین سے بالاتر سمجھ رہا ہو۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے حوالے سے اب فیصلہ کن مرحلہ آ چکا ہے۔ ’ہم امن سے رہنے والے لوگ ہیں، دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، مسائل کا حل صرف مکالمہ ہے‘
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کا حصہ ہیں، ہمارے ہوتے ہوئے سندھودیش کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی سیاست کا آغاز ’ادھر ہم، ادھر تم‘ کے نعرے سے ہوا اور حالیہ قرارداد بھی پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صوبہ آئین پاکستان سے متصادم قرارداد منظور کر سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری سب پر لازم ہے اور آئین ہی پرامن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے، شہری علاقوں کے ساتھ دہائیوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم ظاہر کی گئی اور وسائل کی تقسیم بھی غیر منصفانہ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاق سے سندھ کو ملنے والے خطیر فنڈز میں کراچی کا جائز حصہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پر مکمل عملدرآمد ہی مسائل کا واحد حل ہے، بصورت دیگر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
خالد مقبول صدیقی نے زور دیا کہ ایم کیو ایم کا ہر اقدام پاکستان کے مفاد میں ہوگا اور پارٹی ملکی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔














