پکوڑے اندر سے کچے کیوں رہ جاتے ہیں؟
جوں ہی رمضان کا مقدس مہینہ آتا ہے، گھروں میں طرح طرح کے اسنیکس اور پکوان بننے شروع ہو جاتے ہیں۔ تلی ہوئی چیزوں کے بغیر افطاری ادھوری اور بے رنگ سی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دہی بڑے یا پکوڑے باہر سے سنہری اور خستہ نظر آتے ہیں لیکن اندر سے کچے رہ جاتے ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے فرائنگ کا درست طریقہ اور بنیادی اصول جاننا بے حد ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ تیل کا غلط درجۂ حرارت تک گرم ہونا ہے۔
اگر تیل بہت زیادہ گرم ہو تو پکوڑے باہر سے فوراً براؤن ہو جاتے ہیں، مگر گرمی اندر تک نہیں پہنچ پاتی، جس کی وجہ سے اندرونی حصہ کچا رہ جاتا ہے۔ بظاہر وہ مکمل تیار لگتے ہیں، لیکن ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔
بیٹر تیار کرنے کا درست طریقہ
بیٹر (آمیزہ) کو اچھی طرح پھینٹیں تاکہ اس میں ہوا شامل ہو جائے۔
ہوا شامل ہونے سے آمیزہ ہلکا ہو جاتا ہے اور تلنے کے دوران گرمی آسانی سے اندر تک پہنچتی ہے۔
اگر بیٹر بہت گاڑھا ہوگا تو پکوڑے اندر سے کچے رہ سکتے ہیں، اس لیے درمیانی گاڑھا پن رکھیں۔
تیل کا درجۂ حرارت کیسے چیک کریں؟
کڑاہی میں تیل درمیانی آنچ پر گرم کریں۔
ایک چھوٹا سا آمیزے کا قطرہ ڈال کر چیک کریں۔
اگر قطرہ فوراً تیزی سے اوپر آ جائے تو تیل بہت زیادہ گرم ہے۔
درست درجۂ حرارت وہ ہے جب قطرہ آہستہ آہستہ اوپر آئے اور جلنے کی آواز زیادہ تیز نہ ہو۔
پکوڑوں یا بڑوں کو ہمیشہ درمیانی آنچ پر تلیں۔ پہلے آنچ کو ہلکا کریں، پھر آمیزہ ڈالیں اوراسے آہستہ آہستہ پکنے دیں۔
اس طرح پکوڑے نہ صرف اندر تک اچھی طرح پک جائیں گے بلکہ باہر سے بھی خوب خستہ اور سنہری ہوں گے۔
















