برطانوی پولیس نے سابق شہزادے اینڈریو کو گرفتار کرلیا
برطانیہ کے بادشاہ چالس کے بھائی شہزادہ اینڈریو کو سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کارروائی اُن الزامات کی بنیاد پر کی گئی کہ انہوں نے بطور برطانوی تجارتی نمائندہ حساس معلومات جیفری ایپ اسٹائن کے ساتھ شیئر کی تھیں، جیسا کہ بی بی سی نے رپورٹ کیا۔
تھیمز ویلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے نارفک کے ایک ساٹھ سالہ مرد کو عوامی عہدے میں بدانتظامی کے شبہات پر گرفتار کیا ہے اور برکشائر اور نارفک میں موجود اُن کے مکانات پر تلاشی جاری ہے۔
برطانیہ کے قوانین کے مطابق پولیس نے ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم بیان میں دی گئی تفصیلات سابق پرنس کے خلاف موجود عوامی بدانتظامی کے الزامات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ پولیس اہلکار جمعرات کی صبح سینڈ رِنگھم میں موجود رہائش گاہ پر بھی پہنچے جہاں ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اس وقت مقیم ہیں۔
سابق پرنس کے جیفری ایپ اسٹائن، جو ایک مجرم جنسی مجرم ہیں، کے ساتھ تعلقات برسوں سے معروف ہیں اور گزشتہ سال انہیں شاہی عہدوں سے بھی محروم کردیا گیا تھا۔ تاہم اس تحقیقات کے آغاز کے بعد ان کے عوامی کردار میں ایک نیا باب کھل گیا ہے۔
برکنگ پیلس کی جانب سے 9 فروری کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اگر پولیس کنگ چارلس سوم یا پیلس سے رابطہ کرے تو ہم اُن کی مکمل مدد کے لیے تیار ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کنگ چارلس نے واضح کیا ہے کہ وہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے رویے کے بارے میں جاری الزامات پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔
سابق پرنس پہلے ہی جنسی جرائم کے الزامات کا سامنا کرچکے ہیں، لیکن محکمہ انصاف کی جانب سے 30 جنوری کو جاری ہونے والے نئے دستاویزات میں ایسے متعدد ای میلز شامل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور تجارتی نمائندہ انہوں نے حساس سرکاری رپورٹس جیفری ایپ اسٹائن کے ساتھ شیئر کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے جنوبی ایشیا کے اپنے دوروں کے سرکاری رپورٹس ایپ اسٹائن کو بھیجی، جو ان کے معاون کی طرف سے موصول ہوئی تھیں۔
پولیس کے بیان میں اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کا نام تو نہیں آیا، لیکن تفصیلات اُن الزامات سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں جو عوامی بدانتظامی کے حوالے سے سامنے آچکے ہیں۔ پولیس اہلکار سینڈ رِنگھم اسٹیت پر موجود تھے جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔
















