رمضان المبارک میں صحت مند رہتے ہوئے رحمتوں اور برکتوں کا خزانہ کیسے سمیٹیں؟

اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی مجموعی صحت کو ترجیح دیں۔
شائع 19 فروری 2026 08:51am

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں آچکی ہیں۔ یہ مقدس مہینہ مسلمانوں کے لیے رب کریم کی طرف سے عظیم تحفہ ہے۔ اس مبارک وقت کا تقاضا ہے کہ ہم روحانی تیاری کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی صحت کا بھی خاص خیال رکھیں تاکہ پورا مہینہ بھرپور توانائی اور تندرستی کے ساتھ عبادات انجام دے سکیں۔

رمضان صرف چند دنوں کا نہیں بلکہ مکمل ایک مہینے پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی مجموعی صحت کو ترجیح دی جائے۔

ہماری دی گئی ٹپس اس سلسلے میں اپ کی یقینا مدد کریں گی اس لیے آج سے ہی ان پر عمل کرنا شروع کردیں۔

ہائیڈریٹ رہیں

روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی ایک عام مسئلہ ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ افطار سے سحری تک وقفے وقفے سے وافر مقدار میں پانی پیا جائے۔ خربوزہ، کھیرا اور ہلکے سوپ جیسی غذائیں بھی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہیں اور ڈی ہائیڈریشن سے بچاتی ہیں۔

متوازن غذا توانائی کی ضامن

افطار اور سحری میں ایسی غذا کا انتخاب کیا جائے جس میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، صحت بخش چکنائیاں اور فائبر شامل ہوں۔ تلی ہوئی اور زیادہ میٹھی اشیاء کا حد سے زیادہ استعمال معدے کے مسائل اور سستی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال کو ملحوظ رکھا جائے۔

سحری میں ہلکی مگر مؤثر خوراک

سحری کے وقت دلیہ، انڈے، دہی اور روٹی جیسی غذائیں توانائی کو دیرپا بناتی ہیں۔ زیادہ نمکین اور کیفین والی اشیاء پیاس میں اضافہ کر سکتی ہیں، اس لیے ان سے پرہیز بہتر ہے۔

ہلکی پھلکی ورزش

افطار کے بعد یا سحری سے پہلے ہلکی واک یا سادہ اسٹریچنگ جسم میں خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور مزاج خوشگوار رکھتی ہے۔ البتہ سخت اور مشقت طلب ورزش سے گریز کیا جائے۔

آہستگی سے کھانے کی عادت اپنائیں

افطار کے وقت جلد بازی اور زیادہ کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کھانے کو اچھی طرح چبا کر اور وقفے وقفے سے کھانے سے نظامِ ہضم بہتر رہتا ہے اور پرخوری سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

غذائیت سے بھرپور انتخاب کریں

پھل، سبزیاں، دالیں اور خشک میوہ جات وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جسمانی قوت مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں۔ روزمرہ کے مینو میں تنوع رکھنے سے گھر والوں کی پسند کا بھی خیال رکھا جا سکتا ہے۔

صفائی کا خاص اہتمام

کھانا تیار کرنے اور کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا اور باورچی خانے کی صفائی برقرار رکھنا بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ذہنی سکون بھی ضروری ہے

رمضان روحانی سکون کا مہینہ ہے۔ گہری سانسوں کی مشق، عبادت، مراقبہ اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس کا مثبت اثر صحت پر بھی پڑتا ہے۔

اپنے جسم کے اشاروں کو نظر انداز نہ کریں

اگر روزے کے دوران شدید کمزوری، چکر یا غیر معمولی پیاس محسوس ہو تو اپنی روٹین پر نظرثانی کریں۔ خصوصاً جو افراد کسی بیماری میں مبتلا ہوں یا باقاعدگی سے ادویات لیتے ہوں، انہیں روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے طبی رہنمائی انتہائی اہم ہے۔

رمضان المبارک کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب روحانی عبادات کے ساتھ جسمانی صحت کا بھی بھرپور خیال رکھا جائے۔ اس مبارک مہینے کا استقبال مثبت سوچ، متوازن خوراک اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ کریں۔