نائیجیریا میں موٹر سائیکل سواروں کا دیہات پر حملہ، 32 افراد ہلاک، درجنوں لاپتا
نائیجیریا کی شمالی ریاست نائجر میں موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کے حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریاستی پولیس کے ترجمان واسیو ابیودون نے تصدیق کی کہ مسلح افراد نے تین دیہات پر حملہ کیا، حملہ آوروں نے ٹُنگا ماکیری گاؤں پر حملہ کیا جہاں چھ افراد جان سے گئے، متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی اور کئی افراد کو اغوا کیا گیا، بعد ازاں حملہ آور کونکوسو گاؤں کی طرف بڑھ گئے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق کونکوسو میں فائرنگ کا سلسلہ صبح سویرے شروع ہوا اور حملہ آوروں نے اندھا دھند گولیاں چلائیں، ہلاکتوں کی تعداد 26 سے 38 تک بتائی گئی ہے، گاؤں میں پولیس اسٹیشن کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا اور متعدد افراد لاپتا ہیں۔
اس کے بعد حملہ آوروں نے پِیسا نامی گاؤں میں بھی کارروائی کی اور وہاں ایک شخص کو قتل کر دیا، علاقے کے بیشتر مکانات کو آگ لگا دی گئی ہے۔
نائجر اور کوارا ریاستوں کی سرحد کے قریب واقع کینجی جنگل کو شدت پسند اور مسلح گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں بوکوحرام اور دیگر گروہ سرگرم رہے ہیں۔
مقامی مذہبی و سماجی رہنماؤں نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مستقل فوجی اڈہ قائم کیا جائے تاکہ حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں الزام عائد کیا تھا کہ نائجیریا میں دہشت گرد عیسائیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم نائجیرین حکومت نے اس بیان کو ’غلط بیانیہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد مسلم اور عیسائی دونوں برادریوں کو متاثر کر رہا ہے۔
دسمبر میں امریکا نے نائجیریا میں مسلح گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کی تھیں اور اس وقت ایک امریکی فوجی ٹیم ملک میں تعینات ہے۔
دوسری جانب نائجیرین حکومت نے بڑھتے دہشت گرد اور ڈاکو حملوں کے پیش نظر فرانس سے مدد طلب کی ہے، جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سیکیورٹی تعاون کے لیے فورسز تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔














