اہم حکومتی شخصیات کا چیئرمین پی ٹی آئی سے رابطہ، ڈاکٹرز کا پینل آج عمران خان کا معائنہ کرے گا

عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے مرکزی گیٹ پر احتجاج جاری
شائع 14 فروری 2026 09:14am

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان سے اہم حکومتی شخصیات نے رابطہ کیا ہے اور انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کا ایک پینل آج عمران خان کا معائنہ کرے گا۔ حکومتی نمائندوں نے پارٹی قیادت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ طبی معائنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے مرکزی گیٹ پر احتجاج جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ مرکزی دروازے پر جمع ہیں اور اعلان کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے ارکان کو گیٹ پر روکا ہوا ہے جبکہ پارلیمنٹ کے تمام دروازوں پر تالے لگا دیے گئے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔

بیرسٹر گوہر علی نے مختصر گفتگو میں کہا کہ اگر دھرنے کو روکا گیا تو ملک بھر میں دھرنے دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی قبول نہیں کی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے طارق فضل چوہدری نے پیشکش کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کا مسئلہ درپیش ہے اور جس جگہ اپوزیشن کہے گی وہاں ان کی آنکھ کا معائنہ کروا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ممکن علاج کی یقین دہانی کراتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بیرون ملک بھیجنے کی باتیں درست نہیں، ان کا علاج ملک کے اندر بھی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ طبی سہولیات بروقت فراہم کی جائیں۔

یہ معاملہ سینیٹ اجلاس میں بھی زیر بحث آیا جہاں اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی۔ قرارداد مسترد ہونے پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں احتجاج اور شور شرابہ کیا۔

رانا ثناء اللہ نے یقین دلایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے گا۔ شیری رحمان نے بھی کہا کہ کسی بھی قیدی کے علاج پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

علامہ ناصر عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بیماری ثابت کرنے کے لیے کسی کے مرنے کا انتظار کرنا سیاسی بدقسمتی ہوگی۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد سے سزا ہوئی تو انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی کی بینائی کے مسئلے کو حکومت پنجاب کی نااہلی قرار دیا اور کہا کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں اور جیل انتظامیہ ان حقوق کی فراہمی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔