چھالیہ کی لت موت کو دعوت: دل کے ساتھ میٹابولزم بھی تباہ
جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں چھالیہ کھانا ایک پرانی اورعام عادت ہے۔ اسے اکثر پان کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے اور کھانے کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ صرف ایک معمولی عادت نہیں ہے بلکہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔
ٹرانسلیشن سائیکاٹریٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ جائزے کے مطابق، چھالیہ کی عادت دل کی بیماری، مختلف قسم کے کینسر اور میٹابولک مسائل جیسے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے اور یہ منہ کے کینسر سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پان یا چھالیہ کے استعمال کا تعلق میٹابولک سنڈروم سے ہے، جو صحت کے مختلف مسائل کا مجموعہ ہے اور دل کے دورے یا فالج کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے چھالیہ چباتے ہیں، ان میں موٹاپا، ہائی بلڈ شوگر، غیر معمولی چکنائی اور انسولین ریزسٹنس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق، چھالیہ استعمال کرنے والوں میں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ 1.6 گنا زیادہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ عمر، جنس اور سماجی و معاشی حالات کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی یہ خطرہ برقرار رہتا ہے۔ میٹابولک سنڈروم خود ٹائپ 2 ذیابیطس کا پیش خیمہ ہے، جو دنیا بھر میں ایک بڑا صحت کا چیلنج ہے۔
چھالیہ کی لت لگنے کی وجہ جزوی طور پر دماغی نظام میں پائی جاتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیٹل نٹ میں موجود ایروکلین اور دیگر مرکبات دماغ میں ایسے ریسیپٹرز پر اثر کرتے ہیں جو کیفین یا نکوٹین کی طرح خوشی اور محرک کے اثرات پیدا کرتے ہیں۔
یہ مرکبات ڈوپامائن کے راستوں کو متاثر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ بار بار چھالیہ استعمال کرتے ہیں اور اسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ثقافتی، سماجی اور پیشہ ورانہ عوامل سے یہ عادت اور پختہ ہوجاتی ہے، جو دیگر نشہ آور چیزوں جیسا ہے۔
صحت کے لیے نقصان دہ سگریٹ نوشی کی طرح چھالیہ چبانے کی عادت کو بھی معاشرے میں قبول سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو صحت کے خطرات سے آگاہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تاہم تحقیق بتاتی ہے کہ چھالیہ منہ کے کینسر، دل کی بیماری، میٹابولک سنڈروم اور جسم میں سوزش کے خطرات بڑھاتا ہے۔ اسی لیے صحت کے ادارے اور ڈاکٹر کمیونٹی پروگرامز، باقاعدہ جانچ اور خصوصی اقدامات کے ذریعے لوگوں کو اس عادت سے روکنے اور چھوڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
اگرچہ سپاری چبانا ایک پرانی روایت ہے، لیکن سائنسی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض سماجی عادت نہیں بلکہ لت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بیٹل نٹ کے فعال مرکبات جسمانی نظام میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، جو دل کی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور میٹابولک خطرات بڑھا سکتی ہیں۔
ان خطرات کو سمجھنا اور ابتدائی روک تھام اپنانا ضروری ہے، جیسے کہ،چھالیہ چبانے کی عادت ترک کرنا، باقاعدہ صحت کی جانچ، کمیونٹی سپورٹ اور تعلیم۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روایتی اور ثقافتی عادات بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر اگر وہ نشہ آور اور کینسر پیدا کرنے والے مادوں سے جڑی ہوں۔
















