’سائیں فُل ماحول میں‘: سندھ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر کی نشے میں دُھت انگریزی وائرل

'یہ جانو جرمن 2.0 مسخرہ کون ہے؟'
شائع 12 فروری 2026 10:05am

حکومتِ سندھ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر پروفیسر اظہر شاہ کو عہدے سے معطل کر دیا ہے۔

پروفیسر اظہر شاہ پر مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ہونے، غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز وائرل وہ رہی ہیں، جن میں انہیں نشے دھت انگریزی میں غصہ کرتے اور عجیب حرکات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک ویڈیو میں انہیں گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ناچتے اور طلبہ کی طرف ہاتھ ہلاتے دیکھا گیا۔ صحافی وجیہہ ثانی کی جانب سے پوسٹ کی گئی اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ”نشے میں جھومتے پرو وائس چانسلر کو طلبہ گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ مقبولیت سمجھ رہا ہے۔“

ڈاکٹر شمع جنیجو نے پروفیسر اظہر شاہ کے انگریزی بولنے کے انداز کو 90 کی دہائی کے ڈرامے ’جانو جرمن‘ کے ایک کردار کی عجیب انگریزی سے تشبیہہ دی۔

معروف سیاست دان فواد چوہدری نے بھی سندھ کی جامعات میں وائس چانسلرز کی حالت پر تنقیدی تبصرہ کیا۔

ایک اور سول میڈیا صارف نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ”جب سائیں استاد شرابی ہوں تو شراب پر پابندی کیوں لگے، سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس کے پروفیسر وائس چانسلر اظہر شاہ کی انگریزی چیک کریں، سائیں فُل ماحول میں“۔

ان کا اشارہ سندھ اسمبلی سے مسترد ہونے والی شراب پر پابندی کی قرار داد کی جانب تھا۔

صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے پروفیسر اظہر شاہ معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے کے وقار اور ساکھ کے تحفظ کے لیے حکومت نے فوری کارروائی کی ہے۔

جامعات و بورڈز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دس فروری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزیر نے اس معاملے کا نوٹس اس وقت لیا جب ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگیں جس سے یونیورسٹی کے امیج کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پروفیسر اظہر شاہ کو فوری طور پر معطل کریں اور حقائق جاننے کے لیے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی جائیں۔

دوسری جانب ایک مصنف الہان نیاز نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”اگر موازنہ کیا جائے تو ہوش و حواس میں رہ کر اپنا کام غلط طریقے سے کرنے والے لوگوں نے پاکستان کو ان شرابیوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے جو نشے کی وجہ سے کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔“

حکومت نے یونیورسٹی کو حکم دیا ہے کہ یہ انکوائری سندھ یونیورسٹی ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کی جائے تاکہ معاملے کی مکمل شفافیت کے ساتھ جانچ ہو سکے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا اور اس پورے عمل کو پندرہ دنوں کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔