دنیا بھر کے سیاست دانوں کو دی جانے والی گالیوں اور تشدد میں اضافہ

عالمی ادارے انٹر پارلیمینٹری یونین نے سروے رپورٹ جاری کردی
شائع 12 فروری 2026 09:56am

دنیا بھر میں سیاستدانوں کو بڑھتے ہوئے تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے، جس سے جمہوریت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ انکشاف عالمی تنظیم انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک سروے میں کیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا بھر میں امن، جمہوریت اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے والے عالمی ادارے انٹر پارلیمینٹری یونین (آئی پی یو) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق یہ سروے زیادہ تر 2025 کے دوران کیا گیا اور اس میں 80 سے زائد ممالک کے قانون سازوں سے سوالات کیے گئے۔ ع

عالمی منظرنامے کی نمائندہ تصویر پیش کرنے کے لیے پانچ ممالک ارجنٹینا، بینن، اٹلی، ملائیشیا اور نیدرلینڈز کے 519 منتخب عوامی نمائندوں سے تفصیلی سوالنامے کے ذریعے معلومات حاصل کی گئیں۔

183 قومی پارلیمانوں پر مشتمل آئی پی یو نے بتایا کہ سروے میں شامل 71 فیصد ارکانِ پارلیمان نے عوام کی جانب سے تشدد یا ہراسانی کا سامنا کرنے کی اطلاع دی، جس میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر کیے جانے والے حملے نمایاں رہے۔

رپورٹ کے مطابق خواتین سیاستدانوں کو زیادہ نشانہ بنایا گیا، خصوصاً جنسی نوعیت کی بدسلوکی اور ہراسانی کے معاملات میں ان کا تناسب غیر متناسب حد تک زیادہ تھا۔

آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل مارٹن چُنگونگ نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دنیا بھر کے قانون ساز اور ارکانِ پارلیمان خوف و ہراس میں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس رجحان کو بے قابو چھوڑ دیا گیا تو اس کے عالمی سطح پر جمہوریت پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔

مارٹن چُنگونگ نے امریکا کی صورتحال کو ”انتہائی سنگین“ قرار دیا اور پنسلوانیا کے گورنر جوش شیپیرو، سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے شوہر، اور کانگریس وومن الہان عمر پر حملوں کا حوالہ دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی قاتلانہ حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں، جن میں 2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران ایک حملے میں گولی ان کے کان کو چھو کر گزر گئی تھی۔

مارٹن چُنگونگ کے مطابق متعدد قانون سازوں نے آن لائن ہراسانی اور ذاتی سلامتی کے خدشات کے باعث اپنے بیانات اور تحریروں میں احتیاط برتنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رجحان نے بعض نمائندوں کی عوامی سطح پر متحرک کردار ادا کرنے کی خواہش کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس نمائندگی کے دائرے کو محدود کر سکتا ہے۔

آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل مارٹن چُنگونگ کا مزید کہنا تھا کہ سیاستدانوں کے خلاف حملوں میں اضافے کے پیچھے نئی ٹیکنالوجیز، بشمول مصنوعی ذہانت، کا کردار بھی شامل ہے۔