ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جانے والا سوڈا صحت کے لیے خطرناک

وقتی راحت جسم کے اندرونی نظامِ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
شائع 12 فروری 2026 10:10am

آج کل کھانے کے فوراً بعد ٹھنڈا سوڈا پینا بہت سے لوگوں کی عادت نہیں بلکہ کمزوری بن چکا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اکثر افراد اسے ہاضمے کے لیے مفید سمجھتے ہیں اور ڈکار کو سکون کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم ماہرِین کے مطابق یہ عادت وقتی تازگی تو دیتی ہے، لیکن یہ وقتی راحت اندرونی طور پر نظامِ ہاضمہ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ڈاکٹرز کہنا ہے کہ سوڈا میں موجود کاربونیشن، ریفائنڈ شوگر اور تیزابیت معدے کے قدرتی ہائیڈروکلورک ایسڈ کو کمزور کر دیتی ہے، جو پروٹین کو ہضم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

جب معدے کا تیزاب غیر متوازن ہو جائے تو کھانا صحیح طرح ہضم ہونے کے بجائے آدھا ہضم ہونے سے رہ جاتا ہے یا خمیر بننے لگتا ہے، جس سے گیس، اپھارہ، سینے کی جلن اور تھکن جیسی شکایات بڑھ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سوڈا آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہی بیکٹیریا نہ صرف ہاضمے بلکہ قوتِ مدافعت اور موڈ کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی کمی سے معدے کے مسائل کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ باقاعدگی سے سوڈا پینے سے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہو سکتی ہے، جس کا اثر توانائی، پٹھوں کی مضبوطی اور مجموعی صحت پر پڑتا ہے۔

کھانے کے بعد آنے والی ’ریفریشنگ‘ ڈکار کو اکثر لوگ راحت سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ دراصل اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ نظامِ ہاضمہ دباؤ میں ہے اور گٹ بیکٹیریا متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین سوڈا کی جگہ ہاضمے کے لیے مفید قدرتی مشروبات اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسپارکلنگ واٹر، گھر میں تیار کیا گیا فروٹ انفیوژڈ پانی یا ہربل چائے بہتر انتخاب ہو سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف پیاس بجھاتے ہیں بلکہ جسم کو غیر ضروری چینی اور کیمیکلز سے بھی بچاتے ہیں۔

ان میں سے ایک مؤثر ڈرنک اجوائن، ثابت دھنیا اور سونف سے تیار کردہ ٹی ہے، جو ہاضمہ بہتر بنانے میں مددگار سمجھی جاتی ہے۔


تینوں اجزاء کو پیس کر مکسچر بنا لیں۔ ایک چمچ مکسچر کو تقریباً 200 ملی لیٹر پانی میں ابال کر یا بھگو کر پیا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب پیٹ میں بننے والی گیس کم کرنے اور معدے کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند عادات اپنانا ہی طویل مدتی فائدے کا سبب بنتا ہے۔ اگر آپ کو ہاضمے سے متعلق مسلسل مسائل درپیش ہوں تو کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔