بھارت سے تعلقات کشیدہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل چین کا اثرورسوخ بڑھنے لگا
بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر چین کا اثرورسوخ بڑھنے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ سال 2024 میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں اُتار آیا ہے۔
شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش میں 15 سالہ اقتدار کے بعد ان کی پارٹی عوامی لیگ پر گزشتہ برس پابندی عائد کر دی گئی تھی اور وہ خود ساختہ جلاوطنی میں نئی دہلی منتقل ہو گئی تھیں۔ اس دوران، چین نے ڈھاکہ میں اپنی سرمایہ کاری اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں حال ہی میں بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری بنانے کا دفاعی معاہدہ بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی سفیر یاو وین اکثر بنگلہ دیشی سیاستدانوں، سرکاری اہلکاروں اور صحافیوں سے ملاقاتیں کرتے دیکھے جاتے ہیں، جہاں وہ اربوں ڈالر کے انفراسٹرکچر منصوبوں اور دیگر دوطرفہ تعاون پر بات چیت کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جن کی سالانہ دو طرفہ تجارت تقریباً 18 ارب ڈالر پر ہے اور بنگلہ دیش کی درآمدات کا تقریباً 95 فیصد حصہ چینی مصنوعات پر مشتمل ہے۔ شیخ حسینہ کے جانے کے بعد چینی کمپنیوں نے بنگلہ دیش میں سیکڑوں ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ بھارتی اداروں کے کوئی نئے معاہدے سامنے نہیں آئے۔
نیو دہلی تھنک ٹینک سینٹر فار سوشل اینڈ اکنامک پروگریس کے سینئر اہلکار کونستانتینو زیویئر کے مطابق چین نہ صرف کھلے عام بلکہ پس پردہ بھی اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے اور بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بحران سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین نے امریکی مصروفیت میں کمی اور ٹرمپ کی ٹیرف جنگ سے بھی فائدہ اٹھایا اور خود کو ایک قابلِ اعتماد اقتصادی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرتا رہے گا کیونکہ یہ زیادہ معقول اقتصادی فوائد فراہم کرتا ہے اور بھارت کی طرح ہندو اکثریت کے مسائل میں نہیں الجھتا۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں میانمار اور بنگلہ دیش کے امور کے سینئر مشیر تھامس کین کے مطابق اگر ڈھاکہ اور نئی دہلی تعلقات کو درست نہ کر پائیں، تو اگلی حکومت کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر آگے بڑھانے کی ترغیب زیادہ ہوگی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں گہرائی کا مطلب بھارت کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی پرفیسر لائلُفار یاسمین کے مطابق بنگلہ دیش کو چین اور بھارت دونوں کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی حکومت بھارت کو نظر انداز کرنے کی حماقت نہیں کرے گی۔














