کبوتروں کو دانہ ڈالنے پر خاتون کو لاکھوں کا جرمانہ
سنگاپور میں 71 سالہ خاتون کو کبوتروں کو دانہ ڈالنا مہنگا پڑگیا۔ عدالت کی طرف سے ان پر بھاری جرمانہ عائد کریا گیا۔ اس سے پہلے بھی خاتون جنگلی کبوتروں کو دانہ ڈالنے کے جرم میں وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھگت چکی ہیں۔
چینل نیوز ایشیا کے مطابق عدالت نے سانموگامناتھن شملہ خاتون کو چار الزامات میں جرم قبول کرنے پر 3,200 سنگاپورین ڈالرز (تقریباً 7 لاکھ 4 ہزار روپے) جرمانہ عائد کیا۔
گذشتہ سال مئی میں بھی شملہ خاتون کو اسی جرم میں اور کبوتروں کو پکڑنے کی مہم میں مداخلت کے سبب 1,200 سنگاپورین ڈالرز جرمانہ ہوا تھا، اور اس وقت انہوں نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کریں گی، مگر صرف ایک ماہ بعد ہی دوبارہ کبوتروں کو اناج اور روٹی کھلانے لگیں۔
استغاثہ کے مطابق جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران شملہ نے کم از کم نو بار کبوتروں کو خوراک دی۔ عدالت میں پیش کی گئی ویڈیوز میں شملہ کو سنگاپور کے ٹوآپایوہ علاقے میں کبوتروں کے جھنڈ کے درمیان دانہ ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ شملہ خاتون نے اپنے حلقے کے رکن پارلیمنٹ سے ملاقات کر کے ندامت کا اظہاربھی کیا تھا، مگر صرف تین دن بعد دوبارہ پرندوں کو خوراک دیتے ہوئے پکڑی گئیں۔ استغاثہ نے کہا کہ یہ مسلسل خلاف ورزی کا مظاہرہ ہے اور اس کے لیے مؤثر جرمانہ ضروری ہے۔
خاتون نے عدالت سے درخواست کی کہ جرمانہ کم کیا جائے اور اس کے بدلے کمیونٹی سروس کی اجازت دی جائے، کیونکہ وہ بے روزگار ہیں اور ان کے پاس میڈیکل انشورنس بھی نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے 3 ہزار 200 ڈالر جرمانہ عائد کیا، جسے شملہ نے فوری طور پر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، عدالت کے حکم کے بعد بھی بار بار پرندوں کو خوراک ڈالنے کے پر وہ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 10 ہزار سنگاپورین ڈالر تک کے جرمانے کی زد میں آ سکتی تھیں۔















