بھارتی وزیراعظم مودی کی ٹرولنگ؛ سابق آرمی چیف کی کتاب میں ایسا کیا ہے؟
بھارت میں سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے (ایم ایم نراوانے) کی آپ بیتی اور کیرئیر کے تجربات پر مبنی کتاب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ ایران میں اس معاملے پر بحث کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس نے سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے کا مذاق بنانے شروع کردیا ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں بجٹ سیشن 2026 کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔ جس میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت کو ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی مسلسل سابق آرمی چیف کی کتاب کا حوالہ دے کر بھارتی کی دفاعی تیاریوں پر سوالات اٹھارہے ہیں جبکہ لوک سبھا کے اسپیکر نے ایوان میں اس کتاب کے تذکرے اور مندرجات زیرِ بحث لانے کو ممنوع قرار دیا ہے۔
یہ کتاب دراصل سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے کی کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹِنی‘ ہے جو ان کے فوجی کیریئر کے تجربات اور بھارت کی دفاعی حکمت عملی کے تجزیے پر مشتمل ہے۔
اس کتاب میں 2020 کے لداخ تنازع اور بھارتی فوج کی اگنی پتھ اسکیم جیسے حساس موضوعات پر کیے گئے انکشافات پر بھارتی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔
جنرل نراوانے دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے اور 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپ کے دوران بھی وہی چیف آف آرمی اسٹاف تھے۔
اپنی یادداشت پر مبنی کتاب میں جنرل نراوانے نے 2020 میں ’گلوان‘ کے مقام پر بھارتی اور چینی افواج کی جھڑپ سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ 31 اگست کی رات مشرقی لداخ میں سرحدی علاقے میں جھڑپ کے بعد چینی فوج کے ٹینک بھارتی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔
راہول گاندھی کے مطابق آرمی چیف نے کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے چینی فوج کے ٹینکوں کی سرحد کے قریب آنے کی اطلاع پر وزیرِدفاع سے رابطہ کیا مگر انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ وہ مسلسل جے شنکر اور راج ناتھ سنگھ کو فون کرتے رہے جس پر انہوں نے اعلیٰ قیادت سے پوچھ کر آگاہ کرنے کا کہا۔
جس کے بعد انہیں نریندر مودی کی جانب سے واضح احکامات دیے جانے کے بجائے یہ پیغام موصول ہوا کہ انہیں جو بہتر لگتا ہے وہ کریں۔ راہول گاندھی کے مطابق سابق آرمی چیف نے لکھا کہ سیاسی قیادت نے انہیں اس سنگین صورت حال میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔
کانگریس نے اپنے اکاؤنٹ پر کتاب کے اس اقتباس کی منظر کشی ایک دلچسپ ’اے آئی جنریٹڈ ویڈیو‘ کے ذریعے کی ہے۔
پیر کے روز بھی پارلیمںٹ کے اجلاس کے دوران جب راہول گاندھی نے اس کتاب کا حوالہ دیا تو تو ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہوگیا۔
وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے کتاب کے شائع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ایوان میں تذکرے پر اعتراض کیا۔ اسی دوران شور شرابے کے باعث راہول گاندھی مزید گفتگو نہ کرسکے۔
بدھ کے روز راہول گاندھی اپنے ہمراہ کتاب کی کاپی لے کر پارلیمنٹ پہچنے اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھے یقین ہے آج وزیراعظم نریندر اجلاس میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پراعتراض کیا کہا گیا تھا کہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی اور میں صرف اقتباسات پر بات کروں گا۔
راہول گاندھی نے کتاب لہراتے ہوئے کہا کہ کہ آج اگر وزیرِاعظم مودی ایوان میں آئے تو میں انہیں یہ کتاب پیش کروں گا تاکہ ان کے علم میں آسکے کہ یہ کتاب وجود رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز جب اجلاس شروع ہوا تو بھارتی وزیرِاعظم نریندر ایوان میں موجود نہیں تھے۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس رہنما پریانکا گاندھی کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم خود بھی نہیں آئے اور وزراء بھی اس معاملے پر جواب نہ دے سکے۔
واضح رہے کہ اس کتاب کو جنوری 2024 میں شائع ہونا تھا مگر بھارتی وزارتِ دفاع نے حساس معلومات اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا حوالہ دے کر اس کی اشاعت روک رکھی ہے مگر ’دی کاروان‘ نامی جریدے میں اس کے کچھ اقتباسات شائع ہوچکے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی کی جانب سے لوک سبھا میں کتاب کی کاپی دکھائے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ کتاب آن لائن پلیٹ فارمز سے بھی غائب ہو گئی ہے۔ اور پیشگی آرڈرز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کتاب کے مصنف ایم ایم نراوانے نے ایک لٹریچر فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتاب ایک سال سے زائد عرصے سے زیرِ جائزہ ہے اور پبلشر اور وزارت دفاع کے درمیان مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہ ان کا کام کتاب لکھنا تھا، جبکہ وزارتِ دفاع سے اجازت لینا پبلشر کی ذمہ داری ہے۔
یوں ایک طرف ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ نامی یہ کتاب سرکاری منظوری کی منتظر ہے تو دوسری جانب پارلیمنٹ میں اس کے تذکرے پر سیاسی ہلچل نے اس کتاب کو شائع ہونے سے پہلے ہی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔















