عثمان طارق کا بالنگ ایکشن مشکوک ہے یا نہیں؟ سابق بھارتی امپائر نے بتا دیا

مسٹری اسپنر عثمان طارق کے بالنگ ایکشن کے حوالے سے معروف اور سابق بھارتی امپائر نے اپنا فیصلہ دے کر اس بحث کو ہی ختم کردیا
شائع 03 فروری 2026 01:33pm

پاکستان کے اسٹار اسپنر عثمان طارق کا مقبول بالنگ ایکشن اس وقت دنیائے کرکٹ میں سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک جانب بہت سے شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ ان کا باؤلنگ ایکشن مشکوک ہے تو کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ اُن کے بال کرانے کے انداز میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تاہم اب مسٹری اسپنر عثمان طارق کے بالنگ ایکشن کے حوالے سے معروف اور سابق بھارتی امپائر نے اپنا فیصلہ دے کر اس بحث کو ہی ختم کردیا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق سابق بین الاقوامی امپائر انیل چودھری نے پاکستان کے اسپنر عثمان طارق کے متنازع بالنگ ایکشن پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اسے قانونی قرار دے دیا ہے۔ عثمان طارق کا ایکشن حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران زیرِ بحث رہا۔

دوسرے ٹی 20 میچ میں آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین نے عثمان طارق کے ہاتھوں آؤٹ ہونے کے بعد اپنے ناخوشگوار ردعمل کا اظہار کیا تھا، کیونکہ گرین کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ عثمان طارق بال تیز پھینک رہے ہیں۔

تاہم، انیل چودھری نے انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا کہ طارق کا ایکشن بالکل قانونی ہے۔

انیل چودھری نے کہا کہ چونکہ عثمان طارق کا ایکشن سائیڈ آن ہے اور وہ اپنی تمام گیندیں ایک ہی انداز میں پھینکتے ہیں، اس لیے یہ ایکشن مکمل طور پر آئی سی سی کے مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق ہے۔

بھارتی امپائر نے ویڈیو میں کہا مجھے عثمان طارق کے بالنگ ایکشن کی ایک ویڈیو موصول ہوئی۔ اگر آپ ان کے ایکشن کو دیکھیں تو یہ تھوڑا سائیڈ آن اور تھوڑا مختلف ہے، اور وہ تھوڑی دیر کے وقفے کے ساتھ بالنگ کرتے ہیں۔ تاہم، چونکہ وہ اپنی تمام گیندیں ایک ہی انداز میں پھینکتے ہیں، اور ان کے بازو میں رہنما اصولوں کے مطابق کوئی موڑ یا سیدھا کرنا نہیں ہوتا، اس لیے ایکشن بالکل درست ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تھوڑا مختلف ہے اور وہ وقفے کے ساتھ بالنگ کرتے ہیں، لیکن وہ تمام گیندیں ایک ہی انداز میں پھینکتے ہیں۔ میری رائے میں، ان کا بالکل ایکشن درست ہے۔

عثمان طارق کا اپنے بالنگ ایکشن پر کیا کہنا ہے؟

اسپنر عثمان طارق نے حال ہی میں اپنے بالنگ ایکشن پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا ہے۔ اُنہیں نہ صرف حالیہ آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بلکہ گزشتہ برس آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں ڈیزرٹ وائپرز کی نمائندگی کے دوران بھی بالنگ ایکشن پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب ایم آئی امارات ٹیم کے ٹام بانٹن نے ان کی گیند کو تیز تھرو قرار دینے کا اشارہ دیا تھا۔

عثمان طارق نے تنقید کے جواب میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میری کہنی میں دو کونیں ہیں، جس کی وجہ سے اسے مکمل سیدھا کرنا مشکل ہوتا ہے۔

عثمان طارق کا کہنا تھا کہ تاریخ یہ دکھاتی ہے کہ جب کبھی اسپنرز پر گیند پھینکنے کے الزامات لگتے ہیں، تو وہ لیبارٹری ٹیسٹ کرواتے ہیں، اپنا ایکشن تبدیل کرتے ہیں اور درست زاویے پر کام کرتے ہیں۔ یہ بعض اوقات شائقین کے لیے الجھن پیدا کرتا ہے۔ میں نے پاکستان میں دو سرکاری ٹیسٹ کرائے اور میرا ایکشن بالکل کلیئر قرار دیا جا چکا ہے۔ دیگر کھلاڑیوں کے برعکس مجھے کچھ بھی تبدیل نہیں کرنا پڑا۔ میں پُر اعتماد ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میں گیند تیز نہیں پھینک رہا۔