لاہور میں بسنت کی تیاریاں، 34 کروڑ سے زائد پتنگیں اور ڈوریں فروخت

بسنت کے موقع پر پتنگ اور گُڈے کے سائز، ڈور کی نوعیت اور استعمال کی تفصیلات جاری
شائع 03 فروری 2026 01:08pm

لاہور میں بسنت کے تہوار کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، مگر اس کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ نے شہریوں کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔

بسنت کے موقع پر پتنگ اور گُڈے کے سائز، ڈور کی نوعیت اور استعمال کی تفصیلات طے کی جاچکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پتنگ کی لمبائی 30 انچ اور چوڑائی 34 انچ سے زیادہ نہیں ہوگی جبکہ گُڈے کی لمبائی 34 انچ اور چوڑائی 40 انچ سے تجاوز نہیں کر سکے گی۔

ڈور صرف کاٹن کے دھاگے سے بنائی جائے گی اور اس میں نو سے زائد تاریں استعمال نہیں ہوں گی۔

ڈور کے مانجھے کے لیے گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کی اجازت ہے۔ گُڈے کے روایتی سائز میں پونا تاوا، تاوا اور ڈیڑھ تاوا شامل ہیں، جو بالترتیب 350 روپے، 600 روپے اور 800 روپے تک میں فروخت ہو رہی ہیں۔

شہر میں ایک ڈور کا پنا 10 سے 12 ہزار روپے میں دستیاب ہے اور حکومت کے مطابق ہر پنے میں دو ہزار میٹر ڈور ہوگی، نائلون یا پلاسٹک کی ڈور پر مکمل پابندی عائد ہے۔

ذرائع کے مطابق، اب تک 34 کروڑ سے زائد پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہو چکی ہیں۔

شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ بسنت محفوظ انداز میں منائی جا سکے۔ سیفٹی انٹینا نہ لگوانے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب کے تمام ٹیچنگ اسپتال بسنت کے موقع پر 6 اور 7 فروری کو کھلے رہیں گے اور ایمرجنسی سروسز، آؤٹ ڈور پیشنٹ اور انڈور ڈیپارٹمنٹس فعال رہیں گے۔

وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین کی زیر صدارت اجلاس میں تمام پراجیکٹس سائٹس کو نو گو ایریا قرار دیا گیا ہے اور صرف متعلقہ اہلکاروں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

صوبائی وزیر کی ہدایت پر سائٹس کی مکمل کورنگ اور لائٹس کی تنصیب کی جائے گی جبکہ واسا کے ترقیاتی کام بسنت کے دوران روک دیے جائیں گے۔

ضلعی انتظامیہ نے شہر کو بسنت تھیم سے سجایا ہے اور خطرناک چھتوں کی انسپیکشن اور نوٹسز کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

شہریوں کو گھر گھر اور تعلیمی اداروں میں آگاہی دی جا رہی ہے اور مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو ذاتی طور پر خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

شہر میں ڈرون کیمروں کے ذریعے چھتوں کی چیکنگ کا عمل جاری ہے اور ہر میزبان چھت کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ کوئیک ریسپانس ٹیمیں روف ٹاپس کا این او سی چیک کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہوگی۔

شہریوں کے تحفظ کے لیے ریڈ زون سمیت شہر بھر میں سیل پوائنٹس کی رجسٹریشن جاری ہے اور 2276 سے زائد سیلرز کو این او سی جاری کی جا چکی ہے۔

شہریوں کو 6 سے 8 فروری تک مفت پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جس میں بس، میٹروبس اور اورنج لائن میٹروٹرین شامل ہیں، جبکہ ذاتی گاڑیوں کے کم استعمال اور اجتماعی سفر کو ترجیح دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

بسنت کے موقع پر انتظامیہ کا پیغام یہ ہے کہ تہوار کی خوشیاں منائی جائیں مگر احتیاطی تدابیر اور ذمہ داری کے ساتھ تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ثقافتی میلہ پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہو۔