جیفری ایپسٹین کون تھا؟
امریکی فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی زندگی اور موت نے عالمی سیاست، تجارت اور شوبز کی دنیا میں ایک ایسا طوفان برپا کر رکھا ہے جو سال 2026 میں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ برسوں میں جاری ہونے والی لاکھوں دستاویزات نے اس پراسرار شخصیت کے گرد بنے جال کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔
جیفری ایپسٹین 1953 میں نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ جس نے ایک ہونہار ریاضی دان کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز بطور استاد کیا، لیکن جلد ہی اس نے وال اسٹریٹ کی مالیاتی دنیا میں قدم رکھ دیا۔
اپنی غیر معمولی ذہانت اور میل جول بڑھانے کی مہارت سے اس نے ایک ایسی سرمایہ کاری فرم ’جے ڈاٹ ایپسٹین اینڈ کو‘ بنائی جو صرف ارب پتی افراد کے اثاثوں کو سنبھالنے کا کام کرتی تھی۔
جیفری نے نہ صرف بے پناہ دولت کمائی بلکہ اپنا ایک نجی جزیرہ ’لٹل سینٹ جیمز‘ بھی خریدا، جسے بعد میں میڈیا نے بدنامِ زمانہ ”ایپسٹین آئی لینڈ“ قرار دیا۔
ایپسٹین کے سیاہ کرتوتوں کا پردہ پہلی بار 2005 میں اس وقت چاک ہوا جب فلوریڈا میں پولیس کو شکایت موصول ہوئی کہ ایپسٹین نے ایک جوڑے کی 14 سالہ بیٹی کا جنسی استحصال کیا۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ وہ لڑکیوں کو ”مساج“ کے بہانے اپنے گھر بلا کر ان کا جنسی استحصال کرتا تھا اور انہیں مزید لڑکیاں لانے کے لیے پیسے دیتا تھا۔
2008 میں ایک متنازع قانونی معاہدے (Plea Deal) کے تحت اسے محض 13 ماہ کی سزا ہوئی، لیکن 2019 میں وفاقی حکام نے اس پر انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے نئے الزامات عائد کر کے دوبارہ گرفتار کر لیا۔
اگست 2019 میں وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا، جسے حکام نے خودکشی قرار دیا، تاہم اس کی موت آج بھی کئی سوالات اور سازشی نظریات کی زد میں ہے۔
ایپسٹین پر الزام تھا کہ اس نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک چلایا۔ اس گھناؤنے کام میں اس کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل نے کلیدی کردار ادا کیا، جو فی الوقت امریکی جیل میں طویل سزا کاٹ رہی ہیں۔
الزامات کے مطابق جیفری ایپسٹین اور ان کی ساتھی گھسلین غریب یا مجبور خاندانوں کی لڑکیوں کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنے پاس بلاتے اور پھر انہیں طاقتور افراد کے سامنے پیش کرتے۔
دعوؤں کے مطابق، ایپسٹین ان طاقتور شخصیات کی خفیہ ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
ایپسٹین کی ”ایڈریس بک“ اور طیارے کے لاگ بکس نے بھی دنیا کو حیران کر دیا۔ جن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام بارہا آئے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی دستاویزات میں ٹرمپ کی تصاویر بھی سامنے آئیں، تاہم انہوں نے کسی بھی غیر قانونی کام میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ پرنس اینڈریو جو کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کا لقب پاچکے تھے، ان ایپسٹین سے قریبی تعلقات ثابت ہوئے، جس کے باعث ان سے شاہی القابات واپس لے لیے گئے۔
اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام بل گیٹس، ایلون مسک اور پیٹر تھیل، معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگز جیسے افراد کے نام بھی مختلف تناظر میں فائلوں میں سامنے آئے۔
نومبر 2025 میں ”ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ“ کی منظوری کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں۔
جنوری 2026 تک 30 لاکھ سے زائد دستاویزات، دو ہزار ویڈیوز اور ہزاروں تصاویر منظرِ عام پر لائی گئیں ہیں۔
حالیہ انکشافات میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی سرسری طور پر آیا ہے۔
فائلوں کے مطابق ایپسٹین نے پولیو مہم کے حوالے سے پاکستانی حکام سے رابطے کی کوشش کی تھی، تاہم ان شخصیات کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
نئی جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایپسٹین کو یہ کہتے سنا گیا کہ ”اخلاقیات ایک پیچیدہ موضوع ہے“، اور اس نے طنزیہ طور پر خود کو ”پہلے درجے کا مجرم“ تسلیم کیا۔
ان جاری کردہ دستاویزات نے دنیا کو دکھایا کہ ایپسٹین کا نیٹ ورک صرف ذاتی نہیں تھا بلکہ اس کے بہت سے طاقتور سیاسی، معاشی اور تفریحی شعبوں سے تعلقات تھے۔
حالیہ دستاویزات میں کچھ ناقابلِ تصدیق دعوے اور مبینہ ای میلز شامل ہیں، جیسے کہ ایپسٹین کے ایک خفیہ بیٹے کا ذکر بھی موجود ہے، لیکن ان سب پر تحقیقات جاری ہیں اور ان کی سچائی ثابت نہیں ہوئی ہے۔
ان فائلز میں سیاحتی اور مالیاتی خطوط بھی شامل ہیں، جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے دنیا بھر میں کس حد تک رابطے قائم کیے تھے۔













