ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: نو ہینڈ شیک، نو کرکٹ؛ پاکستان کے فیصلے پر بھارت تلملا اٹھا
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں صرف انڈین کرکٹ ٹیم کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے نے بھارت بھر میں ہنگامہ کھڑا کردیا ہے، سابق بھارتی کھلاڑیوں اور تجزیہ کار پاکستان کے اس فیصلے پر آگ بگولہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے اتوار کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ ٹیم کو ٹورنامنٹ کے لیے سری لنکا جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی گئی کہ 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ میں پاکستانی ٹیم میدان میں نہیں اترے گی۔
تاہم پاکستان کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھارتیوں کو ہضم نہ ہوا اور انہوں نے مختلف تبصرے سوشل میڈیا پر کرنے شروع کردیے۔
معروف بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ آئی سی سی نے پاکستان کرٹ بورڈ کو کہا ہے کہ یا تو پورا ٹورنامنٹ کھیلیں یا پھر قانونی مسائل کا سامنا کریں۔ آپ ورلڈ کپ میں آ کر صرف ایک میچ بائیکاٹ نہیں کر سکتے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ آئی سی سی نے ایک بڑا بیان جاری کیا ہے۔ ہم آئی سی سی سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ بی سی سی آئی اس پر تبصرہ نہیں کرے گا جب تک کہ ہم آئی سی سی سے بات نہ کر لیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارت کے سابق فاسٹ باؤلر اتل وسان نے بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کو اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کے لیے کچھ ہمدردی محسوس کر رہا ہوں اور ساتھ ہی تھوڑا حیران بھی ہوں۔
اتل وسان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف یہ میچ نہ کھیلے اور پوائنٹس دے دے، اور بعد یعنی (فائنل) میں آپ بھارت سے دوبارہ ملیں، تو کیا پھر بھی میچ نہیں کھیلیں گے؟
سابق بھارتی کرکٹر کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے، تو آپ نے آئی سی سی کے پاس کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔ آئی سی سی کو انہیں باہر کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ بلیک میلنگ کے مترادف ہوگا۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ مالی نقصان بہت زیادہ ہوگا۔
پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے پر سابق بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ کیا انڈیا اور پاکستان کا ٹکراؤ حتیٰ کہ ناک آؤٹ میں بھی ممکن نہیں؟ واقعی؟ اگر ایسا ہوا تو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا اللہ ہی حافظ ہوجائے گا۔
اُدھر معروف بھارتی کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے بھی پاکستان کے بائیکاٹ پر خاموش نہ رہ سکے اور ورلڈکپ میں پاکستان کے مشروط شرکت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں جائے لیکن بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلے تو آئی سی سی کا ردِعمل دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کی قانونی حیثیت یا یہ نہیں معلوم کہ ماضی کی کوئی مثال کس طرح لاگو ہو سکتی ہے لیکن اگر آئی سی سی یہ کہے کہ براڈکاسٹر کو ہونے والا نقصان پاکستان کے حصے میں آنے والی آئی سی سی آمدن سے کاٹ لیا جائے تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔ اور ویسے بھی، اگر فائنل ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان ہو تو پھر کیا ہوگا؟
واضح رہے کہ اس تنازعے کی شروعات اس وقت ہوئی جب بنگلادیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے نکالے جانے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔
مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے لیے کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں منتخب کیا تھا، تاہم بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد فرنچائز کو انہیں اسکواڈ سے نکالنا پڑا۔
اس معاملے کے بعد بنگلادیش کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بھارت سے سری لنکا منتقل کرانے کی آئی سی سی سے درخواست کی گئی جس پر عالمی کرکٹ بورڈ نے ان کی درخواست بی سی سی آئی کے دباؤ میں آکر مسترد کردی۔ جس کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے میگا ایونٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا۔
اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر غور کر سکتا ہے۔
تاہم گزشتہ روز پاکستان حکومت نے فیصلہ کیا کہ قومی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لے گی تاہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔
دوسری جانب پاکستان دشمنی میں بھارتی میڈیا نے پاکستان پر پابندیوں کا پروپیگنڈا شروع کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس معاملے پر آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ بلائی جائے گی جس میں پاکستان کی ٹورنامنٹ میں شرکت سے متعلق فیصلہ ہوگا۔
بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا کہ پاکستان کو بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کی وجہ سے پابندیوں اور نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔















