پیپلز پارٹی کا ’دِلاں تیر بجا‘ بھارتی شادیوں کی جان کیسے بنا؟
پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والا ایک سیاسی نغمہ ’دلاں تیر بجا‘ کس طرح سرحد پار بھارتی ریاست کرناٹکا کے شہر حیدرآباد دکن کی شادیوں کی جان بنا، یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔
حالیہ دنوں میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی فلم ’دھرندھر‘ کے ایک عربی گیت نے سوشل میڈیا پر دھوم مچائی تو مداحوں نے تبصرہ کیا کہ اس فلم کے مناظر پر لیاری کا یہ مشہور بلوچی گیت زیادہ جچتا۔
دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر مداحوں نے فلم کے مناظر کے پیچھے ’دلاں تیر بجا‘ لگا کر ویڈیوز بنانا شروع کر دیں، جس سے اس گانے کی مقبولیت میں ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد دکن میں یہ گیت اتنا مقبول ہے کہ وہاں کے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ حلیم، بریانی اور اس گانے کے بغیر وہاں کی کوئی شادی مکمل نہیں ہوتی۔
یہ گیت اصل میں 1980 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی ترانے کے طور پر سامنے آیا تھا، جسے شبانہ نوشی نے گایا اور ظہور زہبی نے اس کی دھن ترتیب دی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب لیاری میں ’ڈسکو میوزک‘ کا عروج تھا اور اسی ماحول میں یہ جوشیلا گیت تخلیق پایا جس میں پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان ’تیر‘ کا تذکرہ موجود ہے۔
کراچی کے ایک سیاسی ترانے کا بھارت کے شہر حیدرآباد پہنچنے کا سفر کافی پرانا ہے۔
بھارتی ویب سائٹ ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق، ماہرین کا ماننا ہے کہ 1990 کی دہائی میں جب پاکستان اور بھارت سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے سلسلے میں خلیجی ممالک گئے، تو وہاں ثقافتی لین دین ہوا۔ کراچی اور حیدرآباد کے لوگ وہاں مل کر رہتے تھے، جس کے نتیجے میں یہ دھن سی ڈیز اور پین ڈرائیوز کے ذریعے حیدرآباد دکن پہنچی۔
اس کے علاوہ بھارتی فلم انڈسٹری نے بھی اس دھن کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تیلگو فلموں کے سپر اسٹار چرن جیوی کی 1990 میں آنے والی ایک فلم اور بولی وڈ اسٹار امیتابھ بچن کی فلم ’اندر جیت‘ میں اس دھن سے مشابہہ گیت شامل کیے گئے، جس سے یہ موسیقی عام آدمی کے کانوں تک پہنچ گئی۔
حیدرآباد کے مقامی بینڈ ماسٹرز کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے شادیوں میں یہ دھن بجا رہے ہیں۔
اگرچہ بہت سے لوگ اس گانے کے سیاسی پس منظر یا پاکستانی جڑوں سے واقف نہیں ہیں۔ لیکن وہاں اسے ’بھٹو سانگ‘ یا ’مارفا بیٹس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس دھن کی اصل جڑیں یمن کے ان قبائل سے ملتی ہیں جو صدیوں پہلے ہجرت کر کے کراچی کے ساحلی علاقوں اور پھر حیدرآباد دکن میں آباد ہوئے تھے۔ اسی لیے اس موسیقی میں عرب اور افریقی تال کا امتزاج ملتا ہے جسے حیدرآباد میں ’مارفا‘ کہا جاتا ہے۔
آج یہ گیت پاکستانی سیاست اور شادیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کے ہندو اور مسیحی خاندانوں کی تقریبات میں بھی جوش و خروش سے بجایا جاتا ہے۔
حیدرآباد کے لوگ اس پر روایتی رقص کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی بے شمار ویڈیوز موجود ہیں جہاں اس دھن پر نوجوان جھومتے نظر آتے ہیں۔
یہ گیت اس بات کی بہترین مثال ہے کہ موسیقی کسی سرحد یا نظریے کی محتاج نہیں ہوتی؛ حیدرآباد میں کسی کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ بھٹو کون تھے یا پیپلز پارٹی کیا ہے، انہیں بس اس کی دھن پر رقص کرنا پسند ہے۔
















