چرچ کی پینٹنگ میں وزیراعظم سے مشابہ فرشتہ؟ اٹلی میں تحقیقات شروع
وسطی روم میں واقع ایک چرچ میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے مشابہ فرشتے کی تصویر نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ ایک قومی اخبار نے ہفتے کے روز اس بارے میں رپورٹ شائع کی، جس کے بعد وزارتِ ثقافت نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ وزیرِ اعظم میلونی نے اس معاملے کو ہنسی مذاق میں اُڑا دیا۔
اطالوی روزنامہ لا ری پبلکا نے صفحۂ اوّل پر شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں سب سے پہلے اس بات کی نشاندہی کی کہ باسیلیکا آف سینٹ لارنس اِن لوسینا کی ایک چیپل میں موجود دو فرشتوں میں سے ایک کی تصویر کو اس طرح بحال کیا گیا کہ وہ 49 سالہ جارجیا میلونی سے مشابہ نظر آتی ہے، جو اٹلی کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہیں۔
اخبار نے تصویر کی بحالی سے قبل اور بعد کی تصاویر بھی شائع کیں اور کہا کہ اس سے قبل یہ فرشتہ ایک عام بچے کی شکل جیسا دکھائی دیتا تھا۔
وزارتِ ثقافت نے کہا ہے کہ اس نے روم میں فنّی ورثے کے اعلیٰ عہدیدار کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسی دن بحال کی گئی پینٹنگ کا معائنہ کریں، جس کے بعد اگلا قدم اٹھانے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
اٹلی کی اپوزیشن جماعت فائیو اسٹار موومنٹ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم فن اور ثقافت کو کسی بھی صورت میں پروپیگنڈا یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے، خواہ تصویر میں دکھایا گیا چہرہ وزیرِ اعظم کا ہی کیوں نہ ہو۔
چرچ کے پادری، دانیئلے میکیلیتی نے اے این ایس اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ چیپل کی تزئین و آرائش حال ہی میں پانی سے ہونے والے نقصان کے بعد کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اصل پینٹنگز سن 2000 کی تھیں، اس لیے وہ کسی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے دائرے میں نہیں آتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بحالی اسی مصور، برونو ویلینٹینی، نے کی جس نے اصل پینٹنگ بنائی تھی۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ تصویر میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔
اُدھر وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے متنازع پینٹنگ کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نہیں، میں یقیناً کسی فرشتے جیسی نہیں لگتی اور ساتھ ایک ہنستے ہوئے ایموجی کا بھی استعمال کیا۔
















