عمران خان کی آنکھ میں ہونے والا انفیکشن ’سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن‘ کیا ہے؟

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی آنکھ سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر سے جس سے ان کی بینائی کو خطرہ ہے۔
اپ ڈیٹ 29 جنوری 2026 01:13pm

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اڈیالہ جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کی آنکھ میں انفیکشن ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس کے معائنے کی تصدیق حکومت کی جانب سے بھی کی جاچکی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی آنکھ سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر ہے جس سے ان کی بینائی کو خطرہ ہے۔

امریکن اکیڈمی آف آپتھیلمالوجی کے مطابق، آنکھ کے رٹینا میں ایک اہم شریان خون کی ترسیل کے لیے موجود ہوتی ہے۔ جب یہ مرکزی وین بند ہو جاتی ہے تو خون اور مائع رٹینا میں رسنے لگتا ہے، جس سے سوجن ٓپیدا ہوتی ہے اور مرکزی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔

سی آر وی او اسی حالت کا نام ہے۔ اگر خون کی گردش بحال نہ کی گئی تو آنکھ کے اعصابی خلیات مر سکتے ہیں اور بینائی مزید کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سی آر وی او کی سب سے عام علامت آنکھ کی کسی حصے یا مکمل بینائی کا دھندلا ہونا ہے، جو اچانک، چند گھنٹوں یا دنوں میں بگڑ سکتی ہے۔ بعض اوقات بینائی مکمل طور پر اچانک ختم بھی ہو سکتی ہے۔

مریض آنکھ میں تیرتے ہوئے دھبے یا سیاہ لکیریں بھی دیکھ سکتے ہیں، جو رٹینل خون کی نالیوں سے خارج ہونے والے چھوٹے خون کے ذرات کے سائے ہوتے ہیں۔

شدید کیسز میں آنکھ میں درد اور دباؤ بھی محسوس ہو سکتا ہے۔

سی آر وی او کی بنیادی وجہ رٹینا کی مرکزی وین میں جمنے والے خون کا لوتھڑا (کلاٹ) ہے۔

ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا شریانوں کی سختی جیسے مسائل وین کو دبانے یا خون کے بہاؤ کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ حالت زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

خطرے کے دیگر عوامل میں گلوکوما اور شریانوں کا سخت ہونا شامل ہیں۔

سی آر وی او کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کم چکنائی والی خوراک، باقاعدہ ورزش، مثالی وزن برقرار رکھنا اور تمباکو نوشی سے پرہیز مفید ہے۔

تشخیص کے لیے آنکھ کے ڈاکٹر پتلیوں کو پھیلا کر رٹینا کا معائنہ کرتے ہیں اور او سی ٹی سکین کے ذریعے رٹینا میں سوجن دیکھتے ہیں۔

بعض اوقات فلوریسین اینجیوگرافی یا او سی ٹی اینجیوگرافی کی جاتی ہے تاکہ خون کی نالیوں کی حالت معلوم کی جا سکے۔

فلوریسین اینجیوگرافی میں بازو کی وین میں زرد رنگ کی ڈائی ڈال کر رٹینا کی تصویریں لی جاتی ہیں تاکہ یہ پتہ چلے کہ وین بلاک ہے یا نہیں۔

او سی ٹی اینجیوگرافی میں بغیر ڈائی کے خون کی نالیوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

سی آر وی او کے علاج کا مقصد بینائی کو مستحکم رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ آنکھوں کی کچھ دوائیاں ہوتی ہیں، جیسے اینٹی-وی ای جی ایف انجیکشنز یا اسٹیرائیڈ انجیکشنز، جو سوجن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

شدید کیسز میں پین ریٹینل فوٹوکوگولیشن (پی آر پی) نامی لیزر سرجری کی جاتی ہے، جس میں رٹینا کے مخصوص حصوں کو جلا دیا جاتا ہےتاکہ خون کی نالیوں کے بڑھنے اور آنکھ میں خون بہنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

علاج کے بعد کچھ مہینوں میں بینائی میں بہتری محسوس ہو سکتی ہے، تاہم ہر مریض میں یہ بہتری نہیں آتی۔

سی آر وی او کی شدت اور علاج کے آغاز کا وقت فیصلہ کرتا ہے کہ بینائی کس حد تک بحال ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری وقت پر تشخیص اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے آنکھوں میں دھندلاہٹ یا دیگر علامات محسوس ہونے پر فوری طور پر ماہر آنکھ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔