لیبارٹری میں بنا مصنوعی چکن، مسٹر بیسٹ کی ویڈیو نے سب کو حیران کردیا
دنیا میں خوراک تیار کرنے کے نت نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں ، جس میں غذائیت کے ماہرین ہی نیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی اپنے اپنے تجربات ڈال رہی ہیں۔
خوراک کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی جھلک اس وقت دیکھنے میں آئی جب معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے لیب میں تیار کیے گئے چکن کا تجربہ دنیا کے سامنے رکھا۔
مسٹر بیسٹ نے لیب میں بننے والے چکن پر ایک ویڈیو بنائی ہے۔ یہ ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہوئی اور لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا۔
اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد لوگ سوچنے لگے کہ، کیا واقعی گوشت کا مستقبل لیبارٹریز میں ہے اور آنے والے وقت میں گوشت اسی طرح تیار کیا جائے گا؟
مسٹر بیسٹ نے اپسائیڈ فوڈز نامی کمپنی کی ایک جدید لیب کا دورہ کیا۔ اس لیب میں چکن کو فارم میں پالنے کے بجائے، صرف چند خلیات کی مدد سے سائنسی طریقے سے چکن کا گوشت تیار کیا جاتا ہے۔
اس عمل میں مرغیوں کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جو کئی لوگوں کے لیے ایک بڑی بات ہے۔
اس طریقے میں سب سے پہلے مرغی کے انڈے سے چند خلیے لیے جاتے ہیں۔ یہ خلیے بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان میں بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
ان خلیوں کو ایک خاص اسٹیل کے ٹینکوں میں رکھا جاتا ہے، جہاں یہ قدرتی طور پر بڑھتے اور پھیلتے ہیں۔ اس محلول میں انہیں پانی، وٹامنز، نمکیات اور دوسری غذائیں دی جاتی ہیں۔
وقت کے ساتھ یہ خلیے بڑھتے جاتے ہیں اور دو سے تین ہفتوں میں چکن کے گوشت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بعد میں اس گوشت کو چکن فلیٹ یا دوسرے کھانوں کی شکل دی جاتی ہے۔
مسٹر بیسٹ نے عام فارم کے چکن اور لیب میں تیار چکن دونوں کو چکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’مجھے دونوں کے ذائقے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی عام ہو جائے تو اس سے بے شمار مرغیوں اور دیگر جانوروں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ گوشت بالکل عام چکن جیسا ہوتا ہے، کیونکہ یہ اصل چکن کے خلیوں سے ہی بنایا جاتا ہے۔
لیب میں تیار کیا گیا گوشت کھانے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں، اس حوالے سے امریکہ میں حکومت نے مکمل جانچ کے بعد لیب میں بنے چکن کو کھانے کی اجازت دی ہے۔
جون 2023 میں امریکی محکمہ زراعت نے اپسائیڈ فوڈز اور گُڈ میٹ نامی کمپنیوں کو یہ گوشت فروخت کرنے کی منظوری دی، جس کے بعد اسے ریستورانوں میں پیش کیا جانے لگا ہے اور اب اسے مستقبل میں دکانوں تک لانے کا بھی ارادہ ہے۔
اس فیصلے سے پہلے کئی سال تک اس گوشت کی حفاظت اور معیار کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ گوشت صحت کے لیے محفوظ ہے اور عام چکن جیسا ہی ہے۔
مسٹر بیسٹ کے دورے کے بعد اپسائیڈ فوڈز کے سربراہ اُوما ولیتی نے کہا کہ اس تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی انسانوں کے بہتر مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
مسٹر بیسٹ کی ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے مختلف نظر آئی۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے جانوروں کی جان بچ سکتی ہے، کسی کا کہنا تھا کہ، ماحول کو کم نقصان ہوگا ، کم زمین اور پانی استعمال ہوگا۔
وہیں کچھ لوگ اس خیال سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، لیب میں بنا گوشت قدرتی نہیں لگتا، کسی کو اس گوشت کی قیمت زیادہ لگی اور کسی نے کہا کہ وہ روایتی چکن ہی کھانا پسند کرتے ہیں۔
ابھی لیب میں تیار ہونے والا چکن عام لوگوں کے لیے مہنگا ہے اور ہر جگہ دستیاب نہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی آگے بڑھے گی، اس کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔
مسٹر بیسٹ کی ویڈیو نے اس موضوع کو عام لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور اب خوراک کے مستقبل پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
















