جھانکا تاکی ختم: سام سنگ ’گلیکسی ایس 26‘ میں بِلٹ اِن پرائیویسی اسکرین شامل

عوامی مقامات پر 'شولڈر سرفنگ' یعنی دوسروں کی جانب سے اسکرین جھانکنے کے مسئلے سے نجات۔
شائع 28 جنوری 2026 02:27pm

اسمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا ایسا لازمی حصہ بن چکے ہیں کہ ذاتی معلومات اکثر عوامی مقامات پر ہماری اسکرین پر کھلی ہوتی ہیں۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سام سنگ نے اپنے آئندہ گیلیکسی ایس 26 فونز کے لیے ایک ایسی جدید پرائیویسی ٹیکنالوجی کی جھلک دکھائی ہے جو روایتی اسکرین پروٹیکٹرز سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ اسمارٹ ہے۔

سام سنگ کے مطابق، یہ نیا ”گیلیکسی پرائیویسی لیئر“ عوامی مقامات پر شولڈر سرفنگ یعنی دوسروں کی جانب سے اسکرین جھانکنے کے مسئلے کا حل پیش کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کسی پلاسٹک شیٹ یا اضافی کور پر مبنی نہیں بلکہ براہِ راست اسکرین کے پکسلز کو کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیمو ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کی اسکرین سامنے سے دیکھنے پر بالکل واضح رہتی ہے، لیکن جیسے ہی زاویہ بدلا جائے، اسکرین مدھم ہو جاتی ہے یا مکمل طور پر غیر واضح نظر آتی ہے۔ یوں فون کا اصل صارف تو آرام سے مواد دیکھ سکتا ہے، مگر اردگرد بیٹھے لوگ کچھ خاص نہیں دیکھ پاتے۔

یہ فیچر صرف آن یا آف تک محدود نہیں ہوگا۔ صارفین اسے مخصوص ایپس کے لیے فعال کرسکیں گے، مثلاً بینکنگ، پاس ورڈز یا دیگر حساس معلومات والی ایپس۔ حتیٰ کہ نوٹیفکیشنز یا اسکرین کے مخصوص حصوں پر بھی اس حفاظتی پردے کو لاگو کیا جا سکتا ہے۔

تکنیکی اعتبار سے یہ سسٹم سام سنگ ڈسپلے کی ”فلیکس میجک پکسل“ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جسے 2024 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

اس میں جدید اے آئی الگورتھمز استعمال کیے گئے ہیں جو ’اولیڈ اسکرین‘ کے پکسلز کو اس انداز میں کنٹرول کرتے ہیں کہ دیکھنے کا زاویہ محدود ہو جائے، مگر اسکرین کا معیار متاثر نہ ہو۔

سام سنگ کا کہنا ہے کہ اس فیچر کی تیاری میں پانچ سال سے زائد عرصہ لگا۔ اس دوران صارفین کے رویّوں، ان کی نجی حدود اور روزمرہ سیکیورٹی کے احساس کا گہرا مطالعہ کیا گیا۔ نتیجہ ایک ایسی ٹیکنالوجی کی صورت میں سامنے آیا جو تحفظ فراہم کرتی ہے مگر صارف کے تجربے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

خبر گرم ہے کہ سام سنگ فروری کے آخر میں ایک خصوصی ایونٹ میں اپنے نئے گیلیکسی فونز متعارف کرا سکتا ہے، جہاں اس پرائیویسی فیچر کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

بظاہر یہ قدم اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل کے اسمارٹ فونز میں طاقتور کیمرے اور تیز پروسیسر ہی نہیں، بلکہ ذہین پرائیویسی بھی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔