بھارت میں یومِ جمہوریہ پریڈ، ملٹری پرفارمنس پر مِیمز کی بھرمار

سوشل میڈیا پر صارفین بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر مبنی مظاہروں کا مذاق اڑا رہے ہیں
شائع 27 جنوری 2026 06:45pm

بھارت میں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا صارفین بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر مبنی مظاہروں کا مذاق اڑا رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ یہ واقعی پروفیشنل ملٹری پریڈ تھی یا کوئی ثقافتی میلہ۔

دنیا بھر میں قومی دن اور اہم تقریبات کے موقع پر عسکری طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ تاہم بھارت میں 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں بھارتی افواج کا الگ ہی رنگ نظر آیا۔

پریڈ کے دوران موٹر سائیکل سوار دستوں کی انٹری خاص توجہ کا مرکز بنی۔ ایک منظر میں ایک ہی موٹر سائیکل پر دائیں اور بائیں جانب لٹکے سات اہلکار مخصوص انداز میں ہاتھ لہراتے ہوئے آگے بڑھتے دکھائی دیے۔

ایک اور ویڈیو میں یہی اہلکار موٹر سائیکل پر نصب جھولے نما فریم سے لٹک کر گول گول چکر کاٹتے نظر آرہے ہیں۔

ایک صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنز کیا کہ بھارت کی اس ملٹری پریڈ کا مقصد دفاعی طاقت کی نمائش سے دشمن کو خوفزدہ کرنا تھا۔

اسی ویڈیو پر ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ شاید بھارتی فوج دشمن کو ہنسا ہنسا کر مارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایک اور صارف نے ملٹری پریڈ کی چند ویڈیوز پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پتہ نہیں کہ ہندوستان جدید فوج اور دفاع کسے کہتا ہے لیکن یہ پریڈ کسی سرکس سے کم نہیں تھی۔ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ پاکستانی فوج نے واقعی ہندوستان کی درگت بنائی تھی۔

پریڈ کے دوران بھارتی فوج کی خواتین اہلکاروں پر مشتمل دستے نے موٹر سائیکل پر کبھی کھڑے ہوکر اور کبھی لٹک کر مختلف اسٹنٹس کیے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

اس معاملے پر بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بھارت کے معروف صحافی شیو ارور نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہماری افواج کے پاس کرنے کے لیے اس سے بہتر چیزیں بھی موجود ہیں۔ کیا ہم اس سرکس کی جگہ کچھ اور نہیں کرسکتے؟

واضح رہے کہ 26 جنوری 1950 میں بھارت نے اپنا تیار کردہ آئین نافذ کیا تھا اور اسی روز ملک کو جمہوری مملکت قرار دیا تھا، اسی مناسبت سے بھارت ہر سال 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ مناتا ہے۔

بھارتی ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے صدور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ رواں سال اس تقریب کی مرکزی تھیم ’وندے ماترم کے 150 سال‘ اور وکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت) رکھی گئی تھی۔

اس تقریب میں جہاں ملٹری پریڈ کے نام پر ہونے والے کرتب پر سوالات اُٹھے وہیں اپوزیشن جماعت کانگریس، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کَھرگے کو اگلی نشستوں کے بجائے تیسری قطار میں بٹھانے پر شدید برہم ہے۔

کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے طے شدہ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمہوری روایات کو مجروح کیا جبکہ حکومتی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

کانگریس رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے تصویر شیئر کی جس میں راہول گاندھی پچھلی نشستوں پر بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جمہوریت میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن راہول گاندھی کے ساتھ یہ سلوک ناقابلِ قبول ہے‘۔

اسی تقریب کے دوران مستقل موبائل فون استعمال کرنے پر بی جے پی کے حامی راہول گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس معاملے پر میمرز نے بھی خوب ہاتھ صاف کیا ہے۔

ایک موقع پر جب یورپی کمیشن کی صدر نے اشارے سے نریندر مودی کو کچھ دکھانا یا پوچھنا چاہا تو میمرز نے اس منظر کو راہول گاندھی کے موبائل استعمال کرنے سے جوڑ کر میم بنا ڈالی۔

تقریب میں بھارتی فوج کی ’بھیرَو بٹالین‘ کو بھی متعارف کرایا گیا، جسے بھارتی فوج کے مطابق خاص طور پر ’اربن وارفیئر‘ اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس فورس نے ملٹری پریڈ میں اپنے مخصوص کیموفلاج یونیفارم اور جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ مارچ کیا۔

بھیرِو بٹالین کے اہلکاروں کی چند تصاویر بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں جن پر میمز بنائی جارہی ہیں جب کہ اہلکاروں کے حلیے اور اس فورس کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں پر بھی صارفین تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔

ایک صارف نے اس پر تبصرہ کیا کہ تصویر کی حد تو یہ ٹھیک مگر اب جدید دور کی جنگیں اب ایسے نہیں لڑی جاتیں۔

صارف نے ان دعوؤں کو مذاق قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ویڈیو پر ہنسی کا ایموجی شیئر کیا۔

راجستھان میں یومِ جمہوریہ کی تقریب کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جس میں خاتون پولیس افسر پرچم کو سلامی دینے کے بعد سیلوٹ کے معاملے میں پریشانی کا شکار نظر آتی ہیں۔

ٹینا ڈابی نامی پولیس افسر کے قریب کھڑا سپاہی انہیں درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے جس کے بعد ان کی پریشانی حل ہوجاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کو صرف مذاق ہی نہیں بلکہ سنجیدہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے. صارفین اس واقعے کو بیوروکریسی کی تربیت پر سوالیہ نشان قرار دے رہے ہیں۔

یومِ جمہوریہ کے حوالے سے اسی طرح کا ایک واقعہ بھارتی ریاست اتردپیش میں بھی پیش آیا جہاں سیاسی جماعت کے رہنما بھارت کے یومِ آزادی سے بھی بے خبر نظر آئے۔

سماج وادی پارٹی کے رہنما منوج پارس نے ویڈیو بیان میں عوام کو 26 جنوری کو بھارت کا یومِ آزادی قرار دیتے ہوئے مبارکباد دی، جس پر بھارتی میڈیا نے بھی ان کی خوب خبر لی۔

انہوں نے بعد میں اس ویڈیو کو اپنے اکاؤنٹ سے ہٹا دیا مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی تھی۔

یومِ جمہوریہ کی تقریب میں سب سے خوبصورت لمحہ ثقافتی رنگوں کا شاندار امتزاج تھا۔ جس میں بھارت کی مختلف ریاستوں کے وفود نے مقامی ثقافت، تاریخ اور ترقی کو منفرد انداز میں پیش کیا۔

یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں ٹیبلوز کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے جو محض ایک نمائش نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد مختلف ریاستوں کی زبان، لباس اور ریاست یا محمکے کی ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔

ان ٹیبلوز میں مختلف ریاستوں کے علاوہ وزارتوں کی ٹیمیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ پریڈ کے دوران ججز کا ایک پینل ٹیموں کی تھیم، پرفارمنس اور موسیقی کی بنیاد پر فاتح ٹیم کا اعلان کرتا ہے۔

رواں سال اس پریڈ میں ریاست گجرات نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ وزارتِ ثقافت کی ٹیم کو بہترین قرار دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جہاں ملٹری پریڈ پر تنقید کی جارہی ہے وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جو ان ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کو خوب سراہ رہے ہیں، جس میں مشہور بھارتی ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے خصوصی کردار ادا کیا۔

ایک صارف نے حکومت کے ساتھ سنجے بھنسالی کا بھی شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارتی سینما کو اس کا اصل مقام مل گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ اس بار پریڈ کی خوبصورتی بالکل ویسی ہی تھی جیسی بھنسالی کی فلموں میں ہوتی ہے۔