حکومت نے وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی خبروں کی تردید کردی
حکومت نے وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے۔
اتوار کو وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے جان بوجھ کر پھیلائے جا رہے ہیں کہ فوج نے وادی تیراہ کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق، ان دعوؤں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات عام کرنا اور ذاتی یا سیاسی مفادات حاصل کرنا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ایسے تمام دعوے حقیقت کے منافی، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص ایجنڈے کے تحت سامنے لائے جا رہے ہیں۔
وفاقی حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کارروائیوں کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ عام شہریوں کی زندگی اور روزمرہ معمولات متاثر نہ ہوں۔
حکومتی موقف کے مطابق ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی جبری نقل مکانی یا آبادی کی منتقلی کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کوئی عمل جاری ہے۔
حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقامی آبادی خود علاقے میں شدت پسند عناصر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ اسی تناظر میں خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت ایک مخصوص رقم مختص کی گئی ہے جو بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ نقل و حرکت کی صورت میں پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کے لیے رکھی گئی ہے۔ ان اقدامات میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا انتظام شامل ہے۔
دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ ممکنہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے جو نمائندہ جرگوں کے ذریعے سامنے آئی۔ اس عمل میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور یہ نقل مکانی کیمپوں کے قیام کے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا ایسا کوئی بھی بیان جس میں اس رضاکارانہ عمل کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ حکام کے مطابق اس طرح کے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہیں اور بدقسمتی سے ان کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا ہے، جو ایک افسوسناک طرز عمل ہے۔













