بھارتی فلم ’حق‘ کی پاکستان میں تعریفیں کیوں ہو رہی ہیں؟

سوشل میڈیا پر کئی اداکاروں، وکلا، رائٹرز اورعام ناظرین نے فلم پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
اپ ڈیٹ 24 جنوری 2026 12:18pm

نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’حق‘ ان دنوں نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

1985 کے انڈین شاہ بانو کیس سے متاثر اس عدالتی ڈرامے نے پاکستانی ناظرین، فنکاروں اور سوشل میڈیا صارفین کو اس لیے چونکا دیا ہے کیونکہ فلم میں مسلم خواتین کے حقوق، طلاق اور نان و نفقہ جیسے حساس موضوعات کو غیر جانبدار اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

عمران ہاشمی اور یامی گوتم کی فلم ’حق‘ محض ایک عدالتی ڈراما نہیں بلکہ بھارت کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور متنازع قانونی مقدمے، شاہ بانو کیس، سے متاثر ہے۔

فلم کی کہانی ایک مسلم خاتون کی جدوجہد پر مبنی ہے جو طلاق کے بعد اپنے بنیادی حقوق اور مالی کفالت کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

یہ مقدمہ 1970 کی دہائی کے آخر میں اُس وقت سامنے آیا جب اندور سے تعلق رکھنے والی شاہ بانو نے اپنے شوہر محمد احمد خان کے خلاف سپریم کورٹ میں نان نفقہ (الیمونی) کا دعویٰ دائر کیا۔

شوہر کا مؤقف تھا کہ مسلم پرسنل لا کے تحت وہ صرف عدت کی مدت تک ہی کفالت کا پابند ہے، جبکہ شاہ بانو نے فوجداری قانون کی دفعہ 125 کے تحت مستقل مالی مدد کا مطالبہ کیا۔

مرکزی کردار میں یامی گوتم کی اداکاری کو پاکستان میں خاص طور پر سراہا جا رہا ہے. جبکہ عمران ہاشمی نہ صرف ان کے شوہر ’عباس‘ بلکہ عدالت میں مخالف وکیل کا کردار بھی نبھاتے دکھائی دیں گے۔

یامی گوتم نے شازیہ کا کردار ادا کیا ہے، جو اپنے شوہر (عمران ہاشمی) کے خلاف حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔جبکہ عمران ہاشمی کے منفی کردار نے بھی ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

ناظرین نے فلم کی سادگی، حقیقت پسندانہ انداز اور جذباتی توازن کو بھی پسند کیا۔ یامی گوتم کے کردار کو نہ حد سے زیادہ معصوم دکھایا گیا اور نہ ہی کمزور، جبکہ عمران ہاشمی کے منفی کردار نے ناظرین کو بے چین کر دیا اور یہی اس کردار کی کامیابی سمجھی گئی۔

ہدایتکار سوپرن ایس ورما کی یہ فلم ریلیز کے چند ہی دنوں میں نیٹ فلکس انڈیا پر نمبر ون پر پہنچ گئی اور بعد ازاں نان انگلش فلموں کی عالمی فہرست میں دوسرے نمبر تک جا پہنچی۔

صرف دوسرے ہفتے میں فلم نے 45 لاکھ ویوز حاصل کیے، جو اس کی مضبوط کہانی اور متاثر کن اداکاری کا ثبوت ہے۔

بھارت میں کامیابی کے چند ہی دن بعد ’حق‘ نیٹ فلکس پاکستان پر ٹرینڈ کرنے لگی اور جلد ہی ٹاپ پوزیشن پر پہنچ گئی۔

سوشل میڈیا پر کئی اداکاروں، وکلا، رائٹرز اور عام ناظرین نے فلم پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

پاکستانی اداکارہ اور پروڈیوسر فضیلہ قاضی نے فلم کو جذباتی طور پر متاثر کن قرار دیتے ہوئے یامی گوتم کی اداکاری کی تعریف کی۔

جبکہ اداکارہ اور وکیل مریم نور نے فلم کا موازنہ پاکستانی ڈراموں سے کرتے ہوئے لکھا کہ ایک بھارتی فلم نے اسلامی طلاق اور خاندانی نظام کو زیادہ درست انداز میں پیش کیا ہے، جو لمحۂ فکریہ ہے۔

ڈاکٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر اعجاز وارث نے فلم کی فنی ساخت اور مجموعی اثرات پر تفصیلی رائے دیتے ہوئے کہا کہ فلم کا اسکرپٹ مضبوط ہے، ہدایت کاری پُراعتماد محسوس ہوتی ہے اور کہانی کہیں بھی زبردستی نہیں لگتی۔ تمام شعبوں کی ہم آہنگی ’حق‘ کو ایک عمدہ طور پر تیار کی گئی فلم بناتی ہے، جو ناظرین کو آخر تک جوڑے رکھتی ہے اور گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

پاکستانی ناظرین نے بھی فلم کو بے حد پسند کیا اور کھل کر اس کی تعریف کی۔

سوشل میڈیا پر ایک ناظر نے لکھا کہ فلم اتنی دل گرفتہ تھی کہ پلک جھپکنے کا موقع نہیں ملا اور یہ ہر عورت کے دل کو چھو لینے والی کہانی ہے۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اچھا کام سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا، جو دل کو چھو جائے اس کی تعریف ہونی چاہیے۔

ایک مداح نے جذباتی انداز میں لکھا کہ انہوں نے فلم دیکھتے ہوئے کئی بار آنسو بہائے اور اگرچہ وہ عام طور پر بھارتی مواد نہیں دیکھتے، مگر یہ فلم دیکھنا ضروری محسوس ہوئی۔

ایک اور پاکستانی ناظر نے اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فلم نہایت خوبصورتی سے پیش کی گئی ہے اور بعض عدالتی مناظر میں یامی گوتم نے انہیں بے نظیر بھٹو کی یاد دلائی۔

تاہم چند ناظرین نے اس بات پر بحث بھی کی کہ فلم میں اور بھی بہت کچھ دکھایا گیا ہے جو غلط ہے۔

اس کے باوجود مجموعی رائے یہی رہی کہ فلم ایک مضبوط، بامقصد اور اثر انگیز پیغام دینے میں کامیاب رہی۔

ناظرین کے مطابق فلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی ایک فریق کو مکمل طور پر فرشتہ یا شیطان نہیں بناتی، بلکہ حقیقت کے قریب رہتے ہوئے خواتین کے قانونی اور سماجی مسائل کو سامنے لاتی ہے۔ یہی غیر جانبداری اور سچائی پاکستانی ناظرین کو متاثر کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’حق‘ کی مقبولیت اس بات کی بھی عکاس ہے کہ پاکستانی ناظرین اب ایسے مواد کو سراہ رہے ہیں جو تفریح کے ساتھ سماجی شعور بھی اجاگر کرے۔

فلم نے طلاق، نان و نفقہ اور خواتین کے حقوق جیسے موضوعات پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جو پاکستان میں پہلے ہی حساس اور زیرِ بحث رہے ہیں۔

اگرچہ فلم کی بنیاد ایک بھارتی قانونی کیس پر ہے، مگرمسائل مشترک ہیں اور سوال وہی ہیں جو پاکستانی معاشرے میں بھی اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

مذہب، خاندان، قانون اور پدر شاہی نظام کے بیچ پسی ہوئی عورت کی جدوجہد دنیا کے کئی معاشروں کی مشترکہ کہانی ہے اور یہی بھارتی فلم ’حق‘ کی پاکستان میں مقبول ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

Indian courtroom film

Haq

Pakistani Praise

Unexpected Audience