’ڈیووس مین‘ کون ہے؟ عالمی طاقتور اشرافیہ جو ہر وقت سفر میں رہتی ہے

وہ اجلاسوں میں عالمی قوانین پر بات کرتا ہے، پھر اپنے پرائیویٹ جیٹ سے سازگار ملک میں اتر جاتا ہے۔
اپ ڈیٹ 24 جنوری 2026 01:20pm

ہر سال سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت مگر دور دراز قصبے ڈیووس میں عالمی طاقت، سرمایہ اور اثر و رسوخ کے حامل افراد جمع ہوتے ہیں۔ 2026 میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ میں تقریباً 3 ہزار رہنما، 400 سیاسی شخصیات اور 850 سی ای اوز شریک ہیں۔

ابتداء میں، 1971 میں ورلڈ اکنامک فورم کے بانی و صدر کلاوس شواب نے اسے ایک چھوٹے یورپی مینجمنٹ سیمینار کے طور پر شروع کیا تھا تاکہ یورپی کمپنیوں کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔ مگر اب ڈیووس صرف پالیسی فورم نہیں، بلکہ عالمی نیٹ ورکنگ اور اثرورسوخ کے مواقع کا مرکز بن چکا ہے۔

یہاں سیاسی رہنما، سی ای اوز، انفلوئنسرز، اداکار، کھلاڑی اور سماجی کارکن سب اپنی رسائی اور تعلقات کو مضبوط کرنے آتے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ڈیووس مین اسی عالمی اشرافیہ کی نمائندگی کرتا ہے جو طاقت، رسائی اور بین الاقوامی نیٹ ورکس میں جڑا ہوا ہے، اور یہاں خیالات و مواقع کی قدر دولت سے زیادہ اثر و رسوخ سے ناپی جاتی ہے۔

ڈیووس: ایک منفرد مقام کا انتخاب

ڈیووس جنیوا یا زیورخ کی طرح کوئی روایتی طاقت کا مرکز نہیں۔ یہ ایک مہنگا، دور دراز اور خوبصورت پہاڑی قصبہ ہے، جس کا انتخاب جان بوجھ کر کیا گیا تاکہ شرکاء روزمرہ سیاست اور خلفشار سے دور، مکمل توجہ کے ساتھ عالمی مسائل پر بات کر سکیں۔

ثقافتی اور علامتی طور پر بھی ڈیووس ایک بلند و بالا جگہ ہے، جیسا کہ تھامس مین کی کتاب ” دی میجک ماؤنٹین“ میں دکھایا گیا، جہاں دانشور تہذیب اور زوال پر مباحثہ کرتے ہیں۔

ڈیووس مین کی تعریف اور تنازعہ

2004 میں سیموئل پی ہنٹنگٹن نے ”ڈیووس مین“ کی اصطلاح وضع کی۔ یہ وہ عالمی اشرافیہ ہے جو سرحدوں سے آزاد اور عالمی نیٹ ورکس کے ساتھ زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیووس مین عالمی منڈیوں کی زبان بولتا ہے، براعظموں میں آسانی سے سفر کرتا ہے اور ریاستوں کو اکثر رکاوٹ سمجھتا ہے۔ اس کی خصوصیت رسائی اور اثرورسوخ ہے، نہ صرف دولت۔

وقت کے ساتھ، ڈیووس مین تنقید کا مرکز بھی بن گیا۔ سال 2000 کی دہائی کے اوائل میں احتجاجیوں نے فورم کو امیر طبقے کی ”ٹا کنگ شاپ“ قرار دیا، اور 2001 میں ورلڈ سوشل فورم قائم ہوا تاکہ عوامی اقتصادی انصاف پر زور دیا جا سکے۔

تنقید کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ وہی لوگ جو برابری اور پائیداری کی بات کرتے تھے، اکثر عالمی سپلائی چینز، ٹیکس مراعات اور غیرضابطہ کاری سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے۔

کچھ ناقدین کے نزدیک ڈیووس مین اب بھی وہی پرانا، غیر جُڑا ہوا عالمی اشرافیہ ہے، لیکن جدید تحقیق یہ اشارہ دیتی ہے کہ اس تصویر میں نرمی آئی ہے۔ تحقیق ایل ایس ای بزنس ری ویو میں شائع ہوئی ہے، جس میں شاﺅن پوپ اور پیٹریشیا بروملے نے بتایا کہ ڈیووس مین کا سٹیریوٹائپ قدرے نرم ہوا ہے۔

ڈیووس کی شکل بھی بدل رہی ہے۔ آج ٹاؤن میں لگژری ہوٹل، ٹیکنالوجی اور کرپٹو کمپنیوں کی عارضی تنصیبات عام ہیں، اور اجلاس زیادہ تر سودے بازی اور معاہدوں پر مرکوز ہیں بجائے اخلاقی یا سماجی تصورات کے۔ ماحولیاتی اور سماجی انصاف کے موضوعات کبھی کبھی سیاسی حساسیت کی وجہ سے محدود کر دیے جاتے ہیں۔

ڈیووس وومن اور شمولیت کی کوششیں

حالیہ سالوں میں فورم نے خواتین کی نمائندگی بڑھانے اور توازن قائم کرنے کے لیے ڈیووس وومِن کی اصطلاح متعارف کروائی۔ اب خواتین رہنما، بانی، ماہرین معیشت، فعال کارکن اور پالیسی ساز مرکزی اور مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔

ڈیووس وومِن صرف ڈیووس مین کا صنفی عکس نہیں بلکہ وہ بھی عالمی سرمایہ اور گورننس کی زبان جانتی ہے، مگر شمولیت، پائیداری اور سماجی اثرات کے چہرے کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔

تضاد اور موجودہ صورتحال

ڈیووس مین کا سب سے بڑا تضاد آج بھی برقرار ہے۔ وہ دنیا میں شمولیت، مساوات اور عالمی تعاون کی بات کرتا ہے، مگر خود ایک محدود اور مہنگی دنیا کا حصہ ہے۔

وہ خصوصی اجلاسوں میں عالمی قوانین اور اثرورسوخ پر بات کرتا ہے، اور پھر اپنے پرائیویٹ جیٹ پر ایسے ممالک واپس جاتا ہے جو ٹیکس کے لحاظ سے سازگار ہوں۔

اس کے باوجود، ڈیووس کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہاں فیصلے کیے جاتے ہیں، اشارے بھیجے جاتے ہیں اور عالمی ایجنڈے تشکیل پاتے ہیں۔

2026 میں ڈیووس مین اور ڈیووس وومِن اپنے 2004 کے ہم عصر سے مختلف دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن بنیادی سوال وہی ہے: کیا ایک اشرافیہ پر مبنی فورم واقعی دنیا کو بہتر بنا سکتا ہے، یا یہ صرف اچھے ارادوں کا دکھاوا ہے؟

یہ سوال نصف صدی سے پہاڑوں کی سرد فضا میں معلق ہے، جس کا جواب آج تک نامعلوم ہے۔

World Economic Forum

Davos Man

Davos Woman

Global Elite

Klaus Schwab

Globalization