روس کا غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کا عندیہ، پاکستان سے مشاورت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس کے سلسلے میں پاکستان اور روس نے ماسکو میں مشاورت کا آغاز کر دیا جس کے تحت روس کا غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔
روسی وزیر خارجہ اور پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی کے درمیان ملاقات میں غزہ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان نے پہلے ہی بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ روس بورڈ میں شرکت پر غور کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں باضابطہ طور پر اپنے بنائے ہوئے بورڈ آف پیس کے پہلے چارٹر کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ بورڈ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے اور مستقل رکنیت کے لیے اس کی قیمت ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔
سمیت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مراکش، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، قازقستان، ازبکستان، بیلاروس، اسرائیل اور ہنگری نے امریکی صدر کی دعوت پر غزہ میں امن کے لیے قائم ہونے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔
ہر ملک اپنے قانونی طریقہ کار کے مطابق دستاویز پر دستخط کرے گا، اس سلسلے میں وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق بورڈ آف پیس کو غزہ میں منصفانہ اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرنا ہوگا اور وہ امریکی صدر کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ادھر یورپی ممالک جرمنی، ناروے، اٹلی، سویڈن اور ڈنمارک نے بورڈ آف پیس کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔
امریکی حکومت منجمد کیے گئے اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر بورڈ آف پیس کے لیے مختص کر سکتی ہے۔
وہیں چین نے بورڈ آف پیس پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام اقدام اقوام متحدہ کی جگہ نہیں لے سکتا۔
چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ چین اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی اور ملک کے اثر و رسوخ کے مقابلے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام کو قائم رکھنا تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور چین اس کی مضبوط حمایت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ بورڈ کے ڈھانچے کے مطابق رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی، تاہم اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر کی رقم دے کر بورڈ کی سرگرمیوں کے لیے فنڈ فراہم کرے تو اسے مستقل رکنیت مل سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ابتدائی ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ ہوں گے۔















