تھائیرائیڈ سے صرف حلق نہیں، جسم کے تین اہم حصے بھی خطرے میں

بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی سے تھائیرائیڈ قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
شائع 22 جنوری 2026 09:37am

عام طور پر تھائیرائیڈ کو وزن بڑھنے یا گھٹنے تک محدود سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔

ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ تھائیرائیڈ گلینڈ اکثر بغیر واضح علامات کے جسم کے کئی اہم نظاموں خاص طور پر مدافعتی نظام، گردے اور نظامِ ہاضمہ کو بیک وقت متاثر کرتا ہے۔

مدافعتی نظام پر اثر

ڈاکٹرز کے مطابق تھائیرائیڈ ہارمون جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، جو ہر خلیے کی توانائی سے جڑا ہوتا ہے۔ جب یہ توازن بگڑ جائے تو مدافعتی نظام بھی متاثر ہو جاتا ہے۔

اگر تھائیرائیڈ طویل عرصے تک بے قابو رہے تو یہ جسم کو کمزور کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں بار بار انفیکشن، الرجی اور سوجن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔

بعض کیسز میں مدافعتی نظام حد سے زیادہ متحرک ہو کر آٹو امیون بیماریوں کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

گردوں کی صحت بھی خطرے میں

اگرچہ اکثر لوگ تھائیرائیڈ اور گردوں کے تعلق کو نظرانداز کرتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق تھائیرائیڈ ہارمون گردوں میں خون کی روانی اور فلٹریشن کے عمل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

ہائپو تھائیرائیڈزم میں گردوں کی کارکردگی سست ہو سکتی ہے، جس سے جسم میں پانی جمع ہونا، سوجن اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی گردوں کے مسائل کا شکار ہوں۔

نظامِ ہاضمہ

تھائیرائیڈ کا سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا اثر نظامِ ہاضمہ پر پڑتا ہے۔ یہ ہارمون آنتوں کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس کی کمی قبض، گیس، اپھارہ اور پیٹ بھاری رہنے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ زیادتی کی صورت میں دست یا بار بار پیٹ خراب ہونے کی شکایت سامنے آتی ہے۔

خراب نظام ہضم کی وجہ سے غذائی اجزاء جسم میں صحیح جذب نہیں ہو پاتے، جس سے کمزوری، خون کی کمی اور وٹامن ڈیفیشینسی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو طویل عرصے سے تھکن، وزن میں اچانک تبدیلی، ہاضمے کی خرابی، بار بار بیماری یا جسم میں سوجن محسوس ہو رہی ہو تو تھائیرائیڈ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے، کیونکہ اصل مسئلہ ہارمونل عدم توازن ہو سکتا ہے۔

تھائیرائیڈ کا علاج صرف ادویات کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب مقدار میں پروٹین، آئیوڈین اور سیلینیم، باقاعدہ ورزش، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی بے حد ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض کی بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر نہ صرف تھائیرائیڈ کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت، گردوں اور نظامِ ہاضمہ کو بھی طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

یاد رکھیں تھائیرائیڈ ایک چھوٹا سا گلینڈ ضرور ہے، مگر اس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے۔ بروقت آگاہی اور درست نگہداشت ہی بہتر صحت کی ضمانت ہے۔

throat

affect

3 organs

Thyroid awareness