اپوزیشن پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست کا حق بھی کھو بیٹھی

ارکان کی معطلی کے بعد اپوزیشن عددی لحاظ سے ریکوزیشن کی اہل نہ رہی
شائع 21 جنوری 2026 02:07pm

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے اور اب وہ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروانے کا حق بھی کھو بیٹھی ہے۔

اپوزیشن ارکان کی جانب سے مالیاتی گوشوارے جمع نہ کروانے کا معاملہ مہنگا پڑ گیا، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں 13 اپوزیشن ارکان کو معطل کر دیا۔

معطلی سے قبل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 99 تھی، تاہم 13 ارکان کی معطلی کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 86 رہ گئی ہے۔ اسمبلی قواعد کے مطابق اجلاس بلانے کے لیے کم از کم 93 ارکان کی ریکوزیشن درکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اب اپوزیشن اس آئینی و پارلیمانی حق سے محروم ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق معطل ہونے والے ارکان میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کا نام بھی شامل ہے، جس سے اپوزیشن کو ایوان کے اندر مزید کمزوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اپوزیشن اسمبلی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو چکی ہے، جس کے بعد ایوان میں اس کا کردار مزید محدود ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی مسلسل کم ہوتی عددی طاقت پنجاب اسمبلی میں حکومتی امور پر مؤثر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔

opposition

punjab assembly

Requisition