پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوکر بیرون ملک استعمال اور فروخت ہونے کا انکشاف

500 روپے میں پاکستانیوں کا ڈیٹا مختلف ویب پرفروخت کیا جارہا ہے: سینیٹر افنان اللہ
شائع 20 جنوری 2026 07:13pm

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوکر بیرون ملک استعمال ہونے اور ویب پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ 500 روپے میں پاکستانیوں کا ڈیٹا مختلف ویب پرفروخت کیا جارہا ہے۔

منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی صدارت ہوا تاہم آئی جی سندھ کی کمیٹی میں غیر حاضری پر چیئرمین ممبران کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی جی سندھ کیوں نہیں آئے؟ اور نہ ہی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ جس پر رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پولیس کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے قانون سازی کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ آئی جی سندھ کیا گل پلازہ میں آگ بجھا رہے ہیں؟ یہ کمیٹی پولیس افسران کو ممبران کے سامنے جواب دہ بنانے کے لیے قانون سازی کرے، سندھ پولیس کو بلا کر پوچھا جائے کچے کے کتنے ڈاکو پکڑے؟ سندھ میں ایس ایچ او کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا، اس وقت کہاں تھی پولیس؟ کیا پولیس صرف پارلیمنٹیرین کی تذلیل ہی کرتی رہے گی؟

اجلاس میں پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ میرے پیش کیے گئے بل کے حق میں این سی سی آئی اے بھی ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست پرقابل اعتراض مواد کو نہیں ہٹاتے توکیا ہوگا؟

ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکو تعاون کے لیے درخواست کرچکے ہیں، جس پر انوشہ رحمان نے کہا کہ میں ساری زندگی یہی سنتی آئی ہوں، ایک طریقہ کار ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیسے قابل اعتراض مواد ہٹائے گا، پہلے سروس پرووائیڈرز کہتے تھے، جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نہ مواد نہیں ہٹائیں گے۔

سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعل سازی کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھادیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کے کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کر کے جعل ساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا، متاثرہ وکیل یہاں موجود ہے، اس سے پوچھ لیں۔

متاثرہ وکیل نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک شخص میری شناخت اورپاسپورٹ استعمال کرکے بھارت پہنچ گیا، اس شخص کی وجہ سے مجھے اور میرے والدین کو نادرا لے جا کراپنے آپ کو پاکستانی شہری ثابت کرنا پڑا۔

ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ نادرا نے ایسی کئی جعل سازیوں کا معاملہ ہم سے شئیرکیا ہے، ایک ڈیش بورڈ بنایا ہے جس سے جعل سازی سے سفر کرنے والوں کا تدارک ممکن ہو۔

پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری کرنے کیلئے ہیکرز کونسے 16 براؤزرز استعمال کر رہے ہیں؟

سینیٹر پلوشہ خان نے پوچھا کہ نادرا سے شناخت کیسے چوری ہو گئی، ڈیٹا چوری کیسے ہوا؟ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ شہری اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈ کے کوائف واٹس ایپ پر شئیر کرتے ہیں وہاں سے لیک ہونا ممکن ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ نادرا نے کئی افغان نیشنل اور دہشت گردوں کو بھی شناختی کارڈ جاری کر رکھا ہے۔ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ یہ کیس 2023 میں ہوا لیکن اب نادرا اور پاسپورٹس میں جدت لے آئے ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ نادرا، بینک اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پرموجود ہے، کسی بھی شہری کا ڈیٹا خریدنا ہو تو 500 روپے میں مل جاتا ہے، محکمے کے اندر سے کسی کے ملوث ہوئے بغیر اس لیول پرڈیٹا چوری ممکن نہیں۔

متاثرہ وکیل نے کہا کہ میرے پاس دہری شہریت ہے، میں سفرکے لیے برطانوی پاسپورٹ استعمال کرتا ہوں، ایک سال سے ڈی جی پاسپورٹس سے ملنے کا انتظار کررہا ہوں۔

pakistanis

Senator Afnan Ullah

Senate Standing Committee Interior

pakistanis data