بند عمارت میں لگی آگ سے خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟

آگ کے شعلے خوفناک سہی لیکن اصل خطرہ دھواں ہے جو چند ہی منٹوں میں پورے فلور میں پھیل سکتا ہے۔
شائع 19 جنوری 2026 11:56am

بند عمارتوں میں لگنے والی آگ چند لمحوں میں جان لیوا حادثے میں بدل سکتی ہے۔ زیادہ تر آگ بجلی کی ناقص وائرنگ، شارٹ سرکٹ، گیس لیکیج یا آتش گیر سامان کے غیر محفوظ ذخیرے کی وجہ سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر عمارتوں میں حفاظتی ضوابط کی غیر موجودگی اور آگ سے بچاؤ کی مشقوں کا فقدان ایسے سانحات کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔ اسی لیے ہر شہری کے لیے آگ کے وقت درست ردعمل اور احتیاطی تدابیر جاننا ضروری ہیں۔

آگ کے شعلے بظاہر زیادہ جان لیوا سمجھے جاتے ہیں، لیکن زیادہ تر اموات گاڑھے دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث ہوتی ہیں۔

چند ہی منٹوں میں دھواں پورے فلور پر پھیل سکتا ہے جو نظر دھندلا دیتا ہے اور سانس لینا مشکل کر دیتا ہے۔ ایسے میں گھبراہٹ انسان کو غلط فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس لیے پہلا اصول یہ ہے کہ آگ کا احساس ہوتے ہی گھبراہٹ کے بجائے ہوش و حواس کو قابو میں رکھا جائے اور فوری طور پر منظم انداز میں باہر نکلنے کی کوشش کی جائے۔

آگ لگتے ہی پہلا ردِ عمل کیا ہو؟

آگ کا الارم سنائی دے یا دھوئیں کی بو محسوس ہو تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اردگرد موجود لوگوں کو آواز دے کر خبردار کریں اور ممکن ہو تو دستی الارم بجائیں۔ موبائل فون، بیگ یا دیگر سامان سمیٹنے میں وقت ضائع نہ کریں، کیونکہ چند قیمتی سیکنڈ بھی زندگی اور موت کے درمیان فرق ڈال سکتے ہیں۔

کسی کمرے سے باہر نکلنے سے قبل دروازے کو ہاتھ کے پچھلے حصے سے چھو کر دیکھیں، اگر دروازہ غیر معمولی گرم ہو تو سمجھ جائیں کہ دوسری جانب آگ بھڑک رہی ہے، لہٰذا اسے فوراً نہ کھولیں بلکہ متبادل راستہ تلاش کریں۔ اگر وقت میسر ہو تو گیلے رومال یا کپڑے سے منہ اور ناک ڈھانپ لیں تاکہ دھواں کم اندر جائے اور سانس لینے میں قدرے آسانی رہے۔

محفوظ راستہ تلاش کریں

آگ اور دھوئیں کی صورت میں زمین کے قریب نسبتاً صاف ہوا ہوتی ہے، اس لیے تیزی سے دوڑنے کے بجائے جھک کر یا گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے آگے بڑھیں تاکہ سانس کے مسائل اور بے ہوشی کا خطرہ کم سے کم رہے۔

راہداریوں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ چلیں، ہلکے سے ہاتھ سے چھو کر سمت کا تعین کریں اور پہلے سے معلوم ہنگامی راستوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔

آگ کے دوران لفٹ کا استعمال نہایت خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ بجلی بند ہونے، لفٹ کے درمیان میں رک جانے یا لفٹ شافٹ میں دھواں بھر جانے کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

اس لیے ہر صورت سیڑھیاں استعمال کریں چاہے وہ دور ہی کیوں نہ ہوں، اور اگر ممکن ہو تو فائریعنی ایمرجنسی ایگزٹ کی طرف جائیں جسے خاص طور پر ایسے حالات کے لیے بنایا جاتا ہے۔

راستہ بند ہونے کی صورت میں کیا کریں؟

بعض اوقات سیڑھیاں دھوئیں یا آگ سے بھر جاتی ہیں یا گرتی ہوئی اشیا راستہ بند کر دیتی ہیں، ایسی صورت میں گھبرا کر ادھر ادھر بھاگنے کے بجائے فوری طور پر کسی محفوظ کمرے میں داخل ہو جائیں۔ دروازے کے نیچے اور اطراف میں گیلے کپڑے، بستر یا پردے ٹھونس کر دھوئیں کا راستہ روکیں اور کمرے میں موجود کھڑکی یا روشن دان کے ذریعے ہوا کا گزر ممکن بنائیں۔

اگر کھڑکی باہر کی جانب کھلتی ہو تو اسے تھوڑا سا کھول کر خود کو نمایاں کریں، سفید کپڑا، رومال یا کسی بھی چیز کو لہرا کر امدادی ٹیموں یا نیچے کھڑے لوگوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔

غیر ضروری طور پر اونچائی سے چھلانگ لگانے سے گریز کریں، کودنے کی نوبت آئے تو یقینی بنائیں کہ اونچائی کم ہو، نیچے لوگ مدد کے لیے موجود ہوں یا نرم سامان رکھ کر نسبتاً محفوظ سطح تیار ہو چکی ہو۔

کپڑوں پر آگ لگنے کی صورت میں اقدام

اگر دوڑتے بھاگتے کپڑوں کو آگ لگ جائے تو سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان خود بدحواسی میں مزید تیز بھاگنے لگتا ہے، جس سے ہوا کے جھونکوں سے شعلے اور بھڑک اٹھتے ہیں۔

ایسی صورت میں فوری اصول یہ ہے کہ فوراً رکیں، زمین پر لیٹ جائیں اور اپنی جگہ پر لوٹیں، یعنی ”رکیں، لیٹیں اور لوٹیں“ کی سادہ ترکیب پر عمل کریں۔ اس عمل سے جسم پر لگی آگ آکسیجن کی کمی سے بجھنے لگتی ہے اور شعلوں کے پھیلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

چہرے کو بازوؤں سے ڈھانپنے سے منہ اور آنکھوں کو براہِ راست شعلوں اور دھوئیں سے جزوی تحفظ ملتا ہے۔ ادگرد موجود لوگ فوری طور پر موٹے کپڑے، کمبل یا کوٹ استعمال کر کے شعلوں کو دبا سکتے ہیں، لیکن ہلکے یا پلاسٹک اور پیراشوٹ کپڑوں کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔

بالکونی، کھڑکی اور چھت کا محفوظ استعمال

اگر اندرونی راستے بند ہوں اور سیڑھیوں تک رسائی ممکن نہ رہے تو بالکونی یا کھڑکی آپ کے لیے عارضی محفوظ مقام بن سکتی ہے جہاں سے تازہ ہوا ملتی رہے اور امداد کے امکانات بڑھ جائیں۔ بالکونی میں کھڑے ہو کر شور مچانا، ٹارچ، موبائل کی روشنی یا کپڑا ہلا کر باہر والوں کو متوجہ کرنا امدادی کارروائیوں میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اگر چھت تک جانے کا راستہ کھلا ہو تو اوپر جانا بعض صورتوں میں نسبتاً محفوظ ہو سکتا ہے، کیونکہ دھواں عموماً اوپر جمع ہوتا ضرور ہے لیکن کھلی فضاء میں تیزی سے منتشر بھی ہوتا رہتا ہے، اور ہیلی کاپٹر یا قریبی عمارتوں سے مدد کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ چھت پر پہنچ کر بھی خطرناک چھلانگ سے پرہیز اور امدادی ٹیموں کے آنے کا انتظار ہی بہتر حکمتِ عملی ہے۔

پہلے سے ہی مؤثر حفاظتی حکمتِ عملی لازمی ہے

آگ کے دوران ہوش مندی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان نے پہلے سے ذہنی اور عملی تیاری کی ہو، اس لیے ہر عمارت کے مکینوں اور ملازمین کو کم از کم سال میں ایک مرتبہ فائر ڈرل میں ضرور حصہ لینا چاہیے۔ ایسی مشقوں کے ذریعے ہر فرد کو معلوم ہوتا ہے کہ الارم کی صورت میں کون سا راستہ استعمال کرنا ہے، کہاں جمع ہونا ہے، اور کن چیزوں سے ہر صورت اجتناب کرنا ہے۔

عمارت کی تعمیر اور دیکھ بھال کے دوران فائر الارم سسٹم، اسپرنکلر، فائر ایکسٹنگشر، ایمرجنسی لائٹس، واضح نشانات اور کھلے ایگزٹ راستے بنیادی تقاضوں میں شامل ہونے چاہئیں۔

بجلی کی وائرنگ کی باقاعدہ جانچ، پرانی تاروں کی تبدیلی، اوور لوڈ ایکسٹینشن بورڈ سے پرہیز اور آتش گیر سامان جیسے کیمیکلز، گتے، کپڑا، پلاسٹک وغیرہ کو محفوظ اور مناسب جگہ پر رکھنا بھی بڑے سانحے سے بچا سکتا ہے۔

یاد رکھیں بند عمارت میں آگ کے دوران چند منٹوں میں کیے گئے درست فیصلے انسان کو ہلاکت خیز سانحے سے بچا لیتے ہیں، جبکہ لاپرواہی، گھبراہٹ اور حفاظتی اصولوں سے لاعلمی المیے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور فرد، خاندان، ملازم اور ذمہ دار شہری آگ سے تحفظ کے ان سادہ مگر فیصلہ کن اصولوں کو نہ صرف خود سیکھیں بلکہ دوسروں تک بھی پہنچائیں، تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ جانیں محفوظ رہ سکیں۔

fire

emergency

evacuation

Smoke

CHAOS

panic

high flames

people running

high rise building