ایران میں صورتحال معمول پر آگئی، انٹرنیٹ سروس بحال
ایران میں صورتحال بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا اعلان پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ٹیلی گرام چینل کے ذریعے کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ ملک میں ہونے والے پُرامن احتجاج کو اسرائیلی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے پُرتشدد بنانے کی کوشش کی۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق تشدد اور دہشت گردی میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، جبکہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی جارحیت کے خلاف ایران اپنی قومی سلامتی کا مکمل دفاع کرے گا۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران اور وسیع تر خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بیان میں کہا تھا کہ ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے انہیں کسی نے قائل نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود یہ فیصلہ کیا تھا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے آٹھ سو افراد کو پھانسی نہیں دی گئی۔
علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے روس بھی متحرک ہوا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے اور ثالثی کی پیشکش کی۔
خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق دونوں رہنماؤں سے گفتگو کے دوران روسی صدر نے کہا کہ ماسکو خطے میں تمام متعلقہ ریاستوں کے ساتھ تعمیری مکالمے کو فروغ دینے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔












