شامی فوج نے شمالی علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا
شامی فوج نے شمالی علاقوں کے کئی شہروں اور دیہاتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، کرد جنگجو ایک معاہدے کے تحت دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر پیچھے ہٹ گئے۔ فوج کی آمد پر مقامی عرب باشندوں میں خوشی کی لہر دیکھی گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق شامی فوج نے ہفتے کے روز شمالی شہروں اور دیہاتوں میں داخل ہو کر کنٹرول حاصل کر لیا، جب کرد جنگجوؤں نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) سے ایک معاہدے کے تحت دریائے فرات کے مشرقی کنارے اپنی پوزیشنیں خالی کر دیں۔ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے درمیان خونریزی سے بچنے کے لیے طے کیا گیا۔
چند روز تک شامی فوج دریائے فرات کے مغربی کنارے واقع دیہاتوں کے قریب بڑی تعداد میں جمع رہی اور کرد فورسز سے کہا کہ وہ اپنی پوزیشنیں دریائے فرات کے مشرقی کنارے منتقل کریں۔
شامی ڈیموکریٹک فورسز کے سربراہ مظلوم عابدی نے اعلان کیا کہ ان کی فورسز ہفتے کی صبح جلد ہی دریائے فرات کے مشرقی کنارے ہٹ جائیں گی، تاکہ دونوں فریقین کے درمیان ایک فرنٹ لائن قائم ہو سکے۔
شامی فوج نے دیر حافر کے مرکزی شہر اور آس پاس کے دیہاتوں پر قبضہ کر لیا، جہاں زیادہ تر عرب آبادی رہتی ہے۔ کچھ باشندے انسانی راہداری کے ذریعے وہاں سے جا چکے تھے، لیکن جو مقیم رہے، انہوں نے فوج کی آمد کا خیرمقدم کیا۔

مقامی رہائشی حسین الخلاف نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ کم سے کم نقصان کے ساتھ ہوا۔ اس ملک میں کافی خون بہہ چکا، لوگ تھک گئے ہیں۔
ایس ڈی ایف کی کچھ فورسز پھر تابقا کے شہر کی جانب مشرق کی طرف پیادہ ہٹیں، جہاں سے کچھ دوبارہ مغرب کی جانب واپس آئیں تاکہ اپنی پوزیشنیں بچا سکیں۔ بعض شہروں میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے، جس سے تصادم ہوا۔
تناؤ کم کرنے کے لیے امریکی نمائندہ ٹام بریک شمالی عراق کے اربیل گئے اور عبدی اورعراقی کرد لیڈر مسعود بارزانی سے ملاقات کی۔ تاہم ابھی تک ان کے ترجمان کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ ہفتوں میں صدر احمد الشراع کی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان کشیدگی بڑھی، جو ملک کو 14 سالہ جنگ کے بعد دوبارہ متحد کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دونوں فریقین نے معاہدے کے ذریعے کرد انتظامیہ اور فوجی اداروں کو شامی ریاستی اداروں میں ضم کرنے پر مذاکرات کیے، لیکن وقت ختم ہونے کے بعد گزشتہ ہفتے حلب میں جھڑپیں ہوگئیں اورایس ڈی ایف نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
شامی فوج نے شمالی اور مشرقی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فورسز جمع کر کے کرد انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا تاکہ ڈیموکریٹس کے ساتھ تعطل میں موجود مذاکرات میں پیش رفت ہو سکے۔













