آپ کے ہاتھ ٹھنڈے کیوں رہتے ہیں؟ 6 ممکنہ وجوہات اور ان کا آسان حل

بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر سے سنگین بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
شائع 17 جنوری 2026 02:57pm

جوں جوں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، بہت سے افراد کو جسمانی طور پر روزمرہ زندگی میں مختلف جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح کی عام شکایت ہاتھوں کا معمول سے زیادہ ٹھنڈا رہنا ہے، جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

عام طور پر یہ جسم کا ایک قدرتی ردِعمل ہوتا ہے، کیونکہ کم درجۂ حرارت میں جسم اہم اعضا جیسے دل اور دماغ کو گرم رکھنے کے لیے خون کا بہاؤ مرکزی حصوں کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس عمل کے دوران جلد کے قریب موجود باریک خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس کے باعث ہاتھوں تک حرارت کم پہنچتی ہے۔

چونکہ ہاتھ اور پیر دل سے نسبتاً دور ہوتے ہیں وہاں خون کی روانی کم ہوجاتی ہے، اس لیے وہ جلدی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات انگلیوں میں شدید سردی کا احساس کسی چھپے ہوئے طبی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ریناؤڈز کا عارضہ

ماہرین کے مطابق ہاتھوں کے مسلسل ٹھنڈے رہنے کی ایک بڑی وجہ ریناؤڈز فینامینن ہو سکتی ہے، جس میں سردی یا ذہنی دباؤ کے باعث انگلیوں کی رگیں اچانک سکڑ جاتی ہیں۔ اس دوران انگلیوں کا رنگ سفید، نیلا یا سرخی مائل ہو سکتا ہے اور سن ہونا یا جھنجھناہٹ محسوس ہوتی ہے۔

خون کی ناقص گردش

پیرفیرل آرٹری ڈیزیز (پی اے ڈی) جیسی بیماریوں میں شریانوں کے اندر چکنائی جمع ہو جاتی ہے، جس سے خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پاؤں تک خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہاتھ اکثر ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں۔

ہائپوتھائیرائیڈزم

ہائپوتھائیرائیڈزم میں جسم کی میٹابولک سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، جس کے باعث سردی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

خون کی کمی

اینیمیا، خاص طور پر آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی، بھی جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن کی ترسیل کو متاثر کرتی ہے۔

ذیابیطس

ذیابیطس اعصابی اور شریانی نظام کو نقصان پہنچا کر ہاتھوں کے درجہ حرارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

ذہنی دباو

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کے دوران جسم میں خارج ہونے والے ہارمونز خون کی نالیوں کو سکیڑ دیتے ہیں، جس سے ہاتھ ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں۔

ہاتھوں کو گرم رکھنے کے آسان طریقے

سردیوں میں ہاتھوں کو گرم رکھنے کے لیے گرم دستانے یا مفلر کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

ہلکی پھلکی ورزش یا چہل قدمی سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔

گرم مشروبات پینا یا ہاتھوں کو نیم گرم پانی میں رکھنا بھی وقتی سکون فراہم کر سکتا ہے۔

غذا میں آئرن اور وٹامن بی سے بھرپور اشیا شامل کرنا، مناسب مقدار میں پانی پینا اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا مراقبہ کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر ہاتھ گرم ماحول میں بھی ٹھنڈے رہیں، انگلیوں کا رنگ بار بار تبدیل ہو، شدید درد یا سن ہونے کی کیفیت برقرار رہے یا زخم ٹھیک ہونے میں دیر لگے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف اس مسئلے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ ممکنہ سنگین بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

Causes

Solutions

HANDS

Cold