دل کی صحت کے لیے کھانے میں تیل کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟
سردیوں کے موسم میں تلی ہوئی اور بھنی ہوئی چیزوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور باورچی خانے سے اٹھنے والی خوشبوئیں اکثر ہماری بھوک بڑھا دیتی ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کھانے میں استعمال ہونے والا زیادہ تیل دل کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق کوکنگ آئل پکوانوں کا اہم جز ہے ، لیکن اگر اس کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو یہ جسم میں کولیسٹرول کے توازن کو بگاڑ کر دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ہندوستان ڈاٹ کام کے مطابق فورٹس اسپتال گریٹر نوئیڈا کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ہرنش سنگھ بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کی جانب سے ان سے سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہوتا ہے کہ روزمرہ کھانا پکانے کے لیے تیل کی مناسب مقدار کیا ہونی چاہیے؟
ان کے مطابق ایک صحت مند فرد کے لیے روزانہ تین سے چار چمچ، یعنی تقریباً بیس سے پچیس گرام تیل کافی ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی مقدار مسلسل بڑھ جائے تو یہ دل کی صحت کو آہستہ آہستہ متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مقدار کو ہفتہ اور ماہ کے حساب سے دیکھا جائے تو ایک فرد کے لیے ہفتے میں تقریباً ڈیڑھ سو سے ایک سو ستر گرام اور مہینے بھر میں چھ سو سے سات سو گرام تیل کافی سمجھا جاتا ہے۔
یہ مقدار صرف گھر میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والے تیل کی ہے، اس میں بازار کا تلا ہوا کھانا، بیکری مصنوعات یا پیکٹ بند غذائیں شامل نہیں ہوتیں، جو تیل کی مقدار کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
فاسٹ فوڈ، اسٹریٹ فوڈ اور بیکری مصنوعات میں استعمال ہونے والا تیل نہ صرف زیادہ ہوتا ہے بلکہ اکثر ان کا معیار بھی اچھا نہیں ہوتا ہے، جو دل کی صحت کے لیے دوہرا نقصان بن سکتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ تیل کا استعمال جسم میں خراب کولیسٹرول میں اضافے، موٹاپے اور پیٹ کی چربی بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی شریانوں میں رکاوٹ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمارے کھانوں میں چونکہ سبزی، دال اور تڑکے میں الگ الگ تیل استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے اکثر لوگ انجانے میں مقررہ حد سے زیادہ تیل استعمال کر لیتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک ہی قسم کا تیل مسلسل استعمال کرنے کے بجائے مختلف تیلوں کا متوازن استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
روزمرہ کھانا پکانے کے لیے سرسوں یا مونگ پھلی کا تیل مناسب سمجھا جاتا ہے، جبکہ رائس بران اور سورج مکھی کے تیل کا استعمال محدود مقدار میں کیا جانا چاہیے۔
سلاد یا ہلکی پھلکی کوکنگ کے لیے زیتون کا تیل بہتر انتخاب ہے، جب کہ گھی اور مکھن کا استعمال بہت کم مقدار میں ہونا چاہیے۔
اگر کھانا پکانے کے طریقوں میں تھوڑی سی احتیاط کریں تو تیل کی مقدار کو آسانی سے کم کیا جا سکتا ہے۔
نان اسٹک یا لوہے کی کڑاہی کا استعمال، تیل ناپ کر ڈالنا، ابالنے، بھاپ میں پکانے اور ہلکا بھوننے جیسے طریقے اپنانا دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بازار کے تلے ہوئے کھانوں سے پرہیز بھی دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں اور بزرگ افراد کے کھانوں میں خاص طور پر تیل کی مقدار پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بچوں میں زیادہ تیل موٹاپے کی بنیاد ڈال سکتا ہے، جبکہ بزرگوں میں یہ دل، بلڈ پریشر اور شوگر کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے خاندان کے ہر فرد کے لیے ایک ہی مقدار کا اصول اپنانے کے بجائے عمر کے مطابق خوراک ترتیب دینا بہتر ہے۔
















