روس نے جاسوسی کے الزامات پر برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کردیا

روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی
شائع 15 جنوری 2026 10:36pm

روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، ماسکو نے جاسوسی کے الزام میں ایک برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سفارتی مشنز کے کام کے بنیادی اصول متاثر ہو رہے ہیں اور لندن اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی سفارت کار گیرتھ سیموئیل ڈیوس، جو ماسکو میں برطانوی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر تعینات تھے، اور برطانوی خفیہ ادارے کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں دو ہفتوں کے اندر روس چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

اس معاملے پر روسی وزارت خارجہ نے روس میں تعینات برطانوی ناظم الامور ڈینیئے دھولاکیا کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جس میں کہا گیا کہ ماسکو روس میں غیر اعلانیہ برطانوی خفیہ اہلکاروں کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لندن نے صورت حال کو مزید بڑھایا تو روس اس کا سخت جواب دے گا۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے باہر مظاہرین نے برطانوی سفارتی گاڑی کے سامنے برطانیہ مخالف نعرے بھی لگائے۔

دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے روسی الزامات کو ’’بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ روس میں برطانوی سفارت کاروں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ برطانوی بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات سفارتی مشنز کے لیے ضروری بنیادی ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں اور لندن اپنے ممکنہ ردعمل پر غور کر رہا ہے۔

یوکرین جنگ کے پس منظر میں روس اور مغربی ممالک ایک دوسرے پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جنہیں سرد جنگ کے بعد سب سے شدید خفیہ کشمکش قرار دیا جا رہا ہے۔

روس کا دعویٰ ہے کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے خفیہ ادارے روس میں سرگرمیاں تیز کر چکے ہیں جب کہ مغربی ممالک روسی خفیہ اداروں پر سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کا الزام لگاتے ہیں، جس کی ماسکو تردید کرتا ہے۔

روسی سرکاری میڈیا میں برطانیہ کو روس کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا جا رہا ہے جب کہ روس نے برطانوی سفارت کاروں پر سفر سے متعلق سخت پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

مغربی سفارت کاروں کے مطابق ماسکو میں تعیناتی اس وقت دنیا کی مشکل ترین سفارتی پوسٹنگز میں شمار ہوتی ہے۔

russia

United Kingdom

Spying

British diplomat

british spy