مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام: امریکا نے ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کردیں

پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں علی لاریجانی کے علاوہ اعلیٰ فوجی کمانڈر شامل ہیں، امریکی محکمہ خزانہ
شائع 15 جنوری 2026 09:58pm

امریکا نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں 5 ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کردی ہیں اور ساتھ ہی امریکی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کی جانب سے دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقوم پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی تہران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں ملوث 5 اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں اور انہیں کریک ڈاؤن میں براہ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔

امریکی پابندی کی زد میں آنے والوں میں سیکرٹری سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر سیکیورٹی کمانڈرز محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی پابندیوں میں ایران کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کے 18 افراد اور ادارے بھی شامل ہیں، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور سنگاپور میں قائم فرنٹ کمپنیاں بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ مذکورہ افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شیڈوبینکنگ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی غیر ملکی منڈیوں میں فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں ملوث تھے۔

امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ امریکا کا ایران کے رہنماؤں کو واضح پیغام ہے کہ امریکی وزارت خزانہ جانتا ہے آپ ایرانی خاندانوں سے لوٹی گئی رقم گھبراہٹ میں دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں، یقین رکھیں ہم اس کا اور تمہارا بھی سراغ لگائیں گے لیکن اس کے لیے تھوڑا وقت ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ اگر ایرانی قیادت چاہے تو اب بھی وقت ہے کہ وہ تشدد بند کر کے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔

امریکی سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ امریکا مکمل طور پر ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ کھڑا ہے اور محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کے ظالمانہ انسانی حقوق کی پامالی کے پس پردہ عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد یہ پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پہلا اقدام ہے جو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں ہنگامے مہنگائی کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئے، جس میں اب تک 2,435 مظاہرین اور 153 حکومتی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Donald Trump

US sanctions

sanctions

President Donald Trump

US imposes sanctions

U.S. President Donald Trump

US imposes new sanctions targeting Iran'

Scott Bessent

us iran sanctions

U.S. Treasury Department